کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص مصنوعی چیزوں سے بال کالے کرتا ہے، یعنی ان چیزوں سے جن سے بال کالے کیے جاتے ہیں تو کیا اس کے لگانے کے بعد اس پر اس شخص کا وضو ہوتا ہے یا نہیں؟ وضاحت کیجیے ،نیز یہ بھی بتائیں کہ انگلیوں پر تسبیح پڑھنا کیسا ہے؟ بعض علماءِ کرام نے کہا ہے کہ صحیح نہیں ہے ، وضاحت فرمائیں۔
۱۔ خالص سیاہ خضاب لگانا اگرچہ مکروہِ تحریمی ہے، مگر خضاب چاہے کالا ہو یا کسی اور رنگ کا مانعِ وضو نہیں۔
۲۔ انگلیوں پر تسبیح پڑھنا جائز ، بلکہ مسنون ہے۔
وفي حاشية ابن عابدين: قوله ( خضاب شعره ولحيته ) لا يديه ورجليه فإنه مكروه للتشبه بالنساء (الي قوله) قوله ( ويكره بالسواد ) أي لغير الحرب، قال في الذخيرة أما الخضاب بالسواد للغزو ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود بالاتفاق وإن ليزين نفسه للنساء فمكروه وعليه عامة المشايخ وبعضهم جوزه بلا كراهة اھ(6/ 422)۔
وفیھا ایضا: قال النووي ومذهبنا استحباب خضاب الشيب للرجل والمرأة بصفرة أو حمرة وتحريم خضابه بالسواد على الأصح لقولہ عليه الصلاة والسلام غيروا هذا الشيب وجتنبوا السواد اهـ (6/ 756)۔