وضو

ناخنوں پر عرق لگانے کی صورت میں وضو کا حکم

فتوی نمبر :
59514
| تاریخ :
2002-09-07
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

ناخنوں پر عرق لگانے کی صورت میں وضو کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عرق لگانا جائز ہے ناخن پر؟ اگر وہ عرق جلد پر لگ جاتا ہے تو وہ اس طرح اُکھڑتا ہے جس طرح ہاتھوں کی جلد اُکھاڑنے سے آسانی سے اُکھڑ جاتی ہے اور اگر ہم نے اس کو وضو کرنے کے بعد اُکھاڑا تو کیا وضو برقرار رہےگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر عرق کے گاڑھا اور ٹھوس ہونے کی بنا پر اس کی تہہ جم جاتی ہو اور وقت کے ساتھ ساتھ بوسیدہ ہونے کی وجہ سے اُکھڑ جاتا ہو تو اس صورت میں چونکہ یہ جسیم (جسم دار)ہے اور اس کی موجودگی وضو اور غسل کے جواز سے مانع ہے، اس لۓ وضو اور غسل سے پہلے اس کا اُتاردینا واجب اور ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوى الهندية: والعجين في الظفر يمنع تمام الاغتسال (إلی قوله) والصرام والصباغ ما في ظفرهما يمنع تمام الاغتسال وقيل كل ذلك يجزيهم للحرج والضرورة، ومواضع الضرورة مستثناة عن قواعد الشرع. كذا في الظهيرية.وإن كان على ظاهر بدنه جلد سمك أو خبز ممضوغ قد جف فاغتسل ولم يصل الماء إلى ما تحته لا يجوز اھ(1/ 13)۔
وفی حاشية ابن عابدين: ومفاده عدم الجواز إذا علم أنه لم يصل الماء تحته اھ(1/ 154)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59514کی تصدیق کریں
0     1543
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات