کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ میں کہ اگر قبر میں میت کی ہڈیاں موجود ہوں یا بوسیدہ ہوگئی ہوں تو اس میں دوسرے مردے کا دفن کرنا جائز ہے یا نہیں؟
اگرچہ پہلی میت کی ہڈیاں مٹی ہو چکی ہوں، مگر بلاوجہ شرعی اور دوسری فارغ جگہ کے ہوتے ہوئے اسی قبر میں کسی دوسری میت کو دفن کرنا مکروہ ہے، جس سے احتراز چاہیۓ۔
فی حاشية ابن عابدين: إذا صار الميت ترابا في القبر يكره دفن غيره في قبره لأن الحرمة باقية، وإن جمعوا عظامه في ناحية ثم دفن غيره فيه تبركا بالجيران الصالحين، ويوجد موضع فارغ يكره ذلك. اهـ. (2/ 233)۔
وفی فتح القدیر: ولایحفر قبر لدفن آخر إلا أن بلی الأول فلم یبق له عظم إلا أن لا یوجد بد فیضم عظام الاول ویجعل بینهما حاجز من تراب اھ (۲/۱۰۲)۔