تدفین

تدفین کے احکام

فتوی نمبر :
59942
| تاریخ :
2008-01-23
عبادات / جنائز / تدفین

تدفین کے احکام

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
1۔ مردہ دفنانے کے بعد کیا عمل سنت ہے ؟مردہ کے سرہانے اور پاؤں کی طرف کھڑے ہو کر اول و آخر سورۃ بقرہ پڑھنا یا وعظ وتقریر کرنا؟
2۔ استغفار برائے میت مسنون ہے یا دعا اور وہ بھی اجتماعی اور ہاتھ اٹھا کر یا انفرادی بغیر ہا تھ اٹھا ئے؟
3۔ کیا آنحضرت ﷺ میت دفنانے کے بعد وعظ فرمایا کرتے تھے ،(حضرت براء رضی اللہ عنہ والی حدیث) جیسے کہ جمعہ کو خطبہ یا تقریر ہوتی ہے؟ نیز آنحضرت علیہ السلام نے قبر پر جو وعظ فرمایا تھا ، وہ التزامی تھا یا اتفاقی؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں واضح جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہو ں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ دفنِ میت کے بعد اس کے سرہانے کھڑے ہو کر سورۃ بقرہ کا اوّل تا مفلحون اور پاؤں کی جانب آخری رکوع پڑھنا مستحب اور احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے ۔
(3/2)۔ اگر اس سے مراد دعا بعد الجنازہ ہے، تو واضح ہو کہ نماز ِجنازہ بحق میت دعا ہے ، جو کہ ہو چکی ، اور دعا بعد الدعاء کا کوئی ثبوت نہیں ہے ،یہ بدعتِ محض ہے جس سے احتراز لازم ہے اور اگر دعا بعد الدفن مراد ہو تو یہ بلاشبہ ثابت ہے، اس میں اگر چہ انفرادی طور پر دعا واستغفار کرنا بہتر وافضل ہے، مگر موقع ومحل کے اعتبار سے اجتماعی دعا بھی ممنوع نہیں، جبکہ اس موقع پر دعا کی ترغیب بھی ثابت ہے، اسی طرح اگر کبھی کبھار ایسے اجتماعات میں کسی قسم کی اصلاحی اور ترغیبی بات کر دی جائے، تاکہ موت کی تیاری میں معاونت ہو، تو وہ بلاشبہ جائز ہے ،مگر اسے معمول بنانے اور لازم سمجھنے سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

و فی الدر: وجلوس ساعة بعد دفنه لدعاء وقراءة بقدر ما ينحر الجزور ويفرق لحمه.اھ (2/237)۔
وفی الشامية: وكان ابن عمر يستحب أن يقرأ على القبر بعد الدفن أول سورة البقرة وخاتمتها اھ (2/237)۔
و فی الصحيح للبخاری: ععن علي رضي الله عنه قال
: كنا في جنازة في بقيع الغرقد فأتانا النبي صلى الله عليه و سلم فقعد وقعدنا حوله ومعه مخصرة فنكس فجعل ينكت بمخصرته ثم قال ( ما منكم من أحد ما من نفس منفوسة إلا كتب مكانها من الجنة والنار وإلا قد كتب شقية أو سعيدة ) . فقال رجل يا رسول الله أفلا نتكل على كتابنا وندع العمل فمن كان منا من أهل السعادة فسيصير إلى عمل أهل السعادة وأما من كان منا من أهل الشقاوة فسيصير إلى عمل أهل الشقاوة ؟ قال ( أما أهل السعادة فييسرون لعمل السعادة وأما أهل الشقاوة فييسرون لعمل الشقاوة ) . ثم قرأ { فأما من أعطى واتقى } . الآية (1/182)۔
وفی الشامية: (قوله: وجلوس إلخ) لما في سنن أبي داود «كان النبي - صلى الله عليه وسلم - إذا فرغ من دفن الميت وقف على قبره وقال: استغفروا لأخيكم واسألوا الله له التثبيت فإنه الآن يسأل اھ (2/237)۔
وفي البحر الرائق: قوله وهي أربع تكبيرات بثناء بعد الأولى وصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم بعد الثانية ودعاء بعد الثالثة وتسليمتين بعد الرابعة ) لما روي عليه الصلاة والسلام صلى على النجاشي فكبر أربع تكبيرات وثبت عليها حتى توفي فنسخت ما قبلها والبداءة بالثناء ثم الصلاة سنة الدعاء لأنه أرجى للقبول ولم يعين المصنف الثناء وروي الحسن أنه دعاء الاستفتاح والمراد بالصلاة الصلاة عليه في التشهد وهو الأولى كما في فتح القدير ولم يذكر القراءة لأنها لم تثبت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم (الي قوله) وقيد بقوله بعد الثالثة لأنه لا يدعو بعد التسليم كما في الخلاصة اھ(2/ 197)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59942کی تصدیق کریں
0     1047
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات