السلام علیکم ! کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
(1)۔ کوئی شخص کہہ دے کہ آج کل راتیں بہت لمبی ہیں اور اس کا دوست ایسے ہی یہ کہہ دے کہ "یہ راتیں اتنی لمبی نہ ہوتیں "
(۲)۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو کوئی دوسرا آدمی کسی لین دین یا کسی معاملہ میں بہت زیادہ تنگ کردے اور وہ شخص اس آدمی کو یہ کہہ دے "ایک تو خدا نے مجھے تم سے نہ چھڑالیا " اس طرح کے الفاظ ہمارے ہاں اکثر کہے جاتے ہیں ، عرض یہ ہے کہ مذکور الفاظ کہہ دینے سے آدمی کافر تو نہیں ہو جاتا ہے ؟
مذکور دونوں کلمات اگر کسی خاص نظریہ،سوچ اور عقیدے کے تحت نہ کہے گئے ہوں تو محض جہالت اور دین سے دوری پر مبنی ہیں، اس سے ایمان متأثر نہیں ہوتا اور نہ ہی عقدِ نکاح پر اثر پڑتا ہے ،البتہ اس قسم کے جہالت پر مبنی جملوں سے عوام و خواص کو احتراز چاہیۓ۔
فی الدر المختار : (و) اعلم أنه (لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن اھ(4/ 229)۔
و فی البحر : لایفتی بتکفیر مسلم أمکن حمل کلامه علی محمل حسن اھ( ۵/ ۱۲۵)۔
و فی حاشية ابن عابدين : لأن مناط التكفير ، و هو التكذيب أو الاستخفاف عند ذلك يكون أما إذا لم يعلم فلا إلا أن يذكر له أهل العلم الخ (4/ 223)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1