کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
(1)۔ دین کے کل کتنےشعبے ہیں اور ان شعبوں میں سے ایک پر عمل کرنا اور باقی پر رد کرنا کیسا ہے؟
(2)۔ قرآن شریف میں منسوخ آیتیں کتنی ہیں اور کونسی ہیں ؟اور ان منسوخ آیتوں کی جگہ جتنی ناسخ آیتیں نازل ہوئی ہیں، وہ کون کونسی ہیں ؟ جبکہ منسوخ آیتوں پر عمل کرنا کیسا ہے؟
(1)۔ دین میں پانچ شعبے ہیں (1) ایمانیات جس کو عقائد بھی کہتے ہیں (2) عبادات جیسے نماز،روزہ وغیرہ (3) معاملات جیسے خرید و فروخت،اجارہ اور گروی وغیرہ (4) اخلاقیات جیسےسچائی، دیانتداری وغیرہ۔ (5)معاشرت جیسے گھریلو رہن سہن وغیرہ ، ان تمام شعبوں کو اعتقاداً ماننا اور عملاً اختیار کرنا لازم ہے، ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرنا ضلالت اور بعض اوقات کفر کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ چھوڑنا فسق ہے جس سے احتراز لازم ہے ۔
(2)۔ اس سلسلہ میں درجِ ذیل کتب کا مطالعہ مفید رہے گا۔
(1) الاتقان للسیوطی (2) الفوز الکبیر لشاہ ولی اللہ الدھلوی، (3)الناسخ و المنسوخ وغیرہ ۔
کمافی شرح النووی علی مسلم : و الايمان أن تؤمن بالله و ملائكته و كتبه ورسله و اليوم الآخر و تؤمن بالقدر خيره و شره قال هذا بيان لأصل الايمان و هو التصديق الباطن و بيان لأصل الاسلام و هو الاستسلام و الانقياد الظاهر و حكم الاسلام فى الظاهر ثبت بالشهادتين و انما أضاف اليهما الصلاة و الزكاة و الحج و الصوم لكونها أظهر شعائر الاسلام و أعظمها و بقيامه بها يتم استسلامه و تركه لها يشعر بانحلال قيد انقياده أو اختلاله ثم ان اسم الايمان يتناول ما فسر به الاسلام فى هذا الحديث و سائر الطاعات لكونها ثمرات للتصديق الباطن الذى هو أصل الايمان و مقويات و متممات و حافظات له اھ(ج1 /ص26)۔
شرح المشكاة للطيبي : فإن قلت : سياق الحديث الأول في الصدق و الكذب، و هذا في البر و الإثم، فكيف وردا في باب الكسب؟ و أي مناسبة بينهما ؟ قلت : قوله : ((طمإنينة)) كالبيان و التفسير للصدق، فلا يراد به المتعارف بل أعم ، فهو حينئذ من باب عموم المجاز ، و يشتمل علي الصدق في المقال و الفعال، و من الفعال طلب كسب الحلال، و الكذب يقابله الكذب في المعنى اھ(7/ 2108)۔
و فی مرقاة المفاتيح : قال رسول الله، صلى الله عليه و سلم (طلب كسب الحلال فريضة) : أي على من احتاج إليه لنفسه ، أو لمن يلزم مؤنته ، و المراد بالحلال غير الحرام المتيقن ليشمل المشتبه لما مر في الأحاديث : أن التنزه عن المشتبه احتياط لا فرض ، ثم هذه الفريضة لا يخاطب بها كل أحد بعينه ، لأن كثيرا من الناس تجب نفقته على غيره ، و قوله (بعد الفريضة): كناية عن أن فرضية طلب كسب الحلال لا تكون في مرتبة فرضية الصلاة و الصوم و الحج و غيرها ، فالمعنى أنه فريضة بعد الفريضة العامة الوجوب على كل مكلف بعينه ، و قيل : معناه أنه فريضة متعاقبة يتلو بعضها البعض لا غاية لها اھ(5/ 1904)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1