جنابِ عالی : السلام علیکم و رحمۃ ﷲ و برکاتہ
میں دین اور سنت اور احادیث کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل باتوں کی معلومات جاننا چاہتا ہوں آپ بمع سند اور مہر کے ، مجھ کو ان کا جواب دیں نوازش ہوگی۔ شکریہ
(۱) پانی ، مٹی ، پتھر کی موجودگی میں گتّے سے استنجا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
(۲) گتّے سے استنجا کرنے کے بعد پانی سے پاک نہ کرنے کی حالت میں وضو کرکے نماز پڑھی یا پڑھائی جائے تو پڑھنے والے کی اور پڑھانے والے کی نماز ہوگی یا نہیں؟
(۳) ایک حافظ امام کی موجودگی میں کوئی دوسرا شخص نماز پڑھائے جو حافظ نہیں ہے اور حافظ کے کہنے کے باوجود (کہ حافظ امام ہے) اسکو نماز نہ پڑھانے دے تو نماز ہوگی یا نہیں ؟ برائے مہربانی تفصیل بیان کردیں۔
(۱) جائز ہے جبکہ گندگی اپنے مقام سے آگے نہ بڑھی ہو۔
(۲) اگر گتے سے استنجاء کرلیا ہو تو نماز ہوجائے گی ، لیکن بہتر یہ ہے کہ گتے سے استنجاء کے بعد پانی بھی استعمال کیا جائے۔
(۳) مذکورہ صورت میں نماز تو بلاشبہ ہوگئی ہے البتہ مقرر امام کا نماز پڑھانا افضل ہے۔
قال فی الھندیہ : یجوز الاستنجاء بنحو حجر منق کالمدر و التراب و العود و الخرقۃ و الجلد و ما اشبہہا۔(ہندیۃ: ج۱،ص۴۸)۔
قال فی الھندیۃ : و إن کان ماجاوز موضع الشرج اقل من قدر الدرہم أو قدر الدرہم إلا انہ إذا ضم إلیہ موضع الشرج کان أکثر من قدر الدرہم فازالہا بالحجر و لم یغسلہا بالماء یجوز عند ابی حنیفۃ و ابی یوسف رحمہا اللّٰہ و لا یکرہ کذا فی الذخیرۃ۔(ج۱،ص۴۸)۔
قال فی الہندیۃ : دخل المسجد من ہو أولی بالامامۃ من امام المحلۃ فإمام المحلۃ أولی۔(ج۱،ص۸۳)۔