وضو

الرجی کی وجہ سے دانوں سےمسلسل پیپ بہنے کی صورت میں وضو اور نماز کا حکم

فتوی نمبر :
60251
| تاریخ :
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

الرجی کی وجہ سے دانوں سےمسلسل پیپ بہنے کی صورت میں وضو اور نماز کا حکم

السلام علیکم! جناب مفتی صاحب !میں الرجی کا مریض ہو ں اور اکثر دانے نکلتے ہیں، جو کریم لگانے کی وجہ سے دو تین دن کے لیے ٹھیک ہو جاتے ہیں ،مگر پھر پانی جیسا پیپ نکلتا ہیں، تو میرا سوال یہ ہے کہ: میرے لیے وضو کا کیا حکم ہے کیونکہ سردیوں میں تو بہت مشکل ہو جاتا ہے؟ اور کبھی کبھار کریم لگانے کی وجہ سے وہ جرابوں اور کپڑوں پر بھی وہ کریم لگ جاتاہے۔تو ان کپڑوں میں نماز ہو جاتی ہیں یا صاف کرنا ہوگا؟تو مہربانی کر کے میری راہ نمائی فرمائیں ۔ شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت ِمسئولہ میں اگر دانوں سے پیپ وغیرہ نکل کر اپنی جگہ سے نہ بہے، تو اس سے سائل کا وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ اگر اپنی جگہ سے بہہ پڑے، تو ا س سے وضو ٹوٹ جائے گا اور یہی پیپ وغیرہ اگر کپڑوں پر لگ جائے ۔تو کپڑے بھی ناپاک ہوجائیں گے، لہٰذا نماز سے قبل اس حصہ کو دھونا لازم ہوگا، اگر پیپ کی مقدار درہم یعنی ہتھیلی کے پھیلاؤ سے زیادہ ہو اور اس کو دھوئے بغیر نماز پڑھ لی، تو نماز درست نہ ہوگی، بلکہ اس نماز کا اعادلازم ہوگا اور اگر پیپ مسلسل بہہ رہی ہو کہ: پورے نماز کے وقت میں اتنا موقع بھی نہ ملے کہ: وضو کرکے صرف فرض نماز ادا کرسکے، تو ایسی صورت میں سائل شرعاً معذور کہلائیگا، اور معذور کا حکم یہ ہے کہ: مثلاً ظہر کی نماز کے لیے وہ ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے، اگر اس سے دوران اتنا وقت نہ ملے کہ: وہ کامل طہارت کے ساتھ نماز ظہر ادا کرسکے، تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کرکے فقط فرض نماز ظہر ادا کرے، اس کے بعد نمازِ عصر کی ادائیگی کے لیے پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ جماعت سے پہلے وضو کرکے نمازِ عصر باجماعت ادا کرے ،اس دوران اگر دانےسے پیپ جیسا پانی نکلتا بھی رہے، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، اسی طرح مغرب وعشاء اور فجر میں بھی وہ ایسا ہی کرے کہ: ہر نماز کے لیے الگ الگ وضو کرلیا کرے، اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقض وضو نہ پایا گیا، تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ اس دوران اگر پورا وقت نماز کوئی ایسا گزر جائے کہ: اس پورے وقت میں یہ عذر اُسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہواہو تو شرعاً وہ معذور نہیں رہے گا، اور اگر دانے سے پیپ جیسا پانی کریم لگانے کی وجہ سے کپڑوں پر لگا ہو تو اس صورت میں دیھا جائےگ ا کہ وہ کس تسلسل سے نکل رہاہے اگر اتنا وقت بھی نہ ملے کہ فرض نماز شروع کرنے سے پہلے جسم یا کپڑے کے دھو لیا جائے ،تب بھی دوران نماز دوبارہ زخم سے پانی نکل کر جسم یا کپڑوں پر لگ جائے گا ،تو اس صورت میں ان کپڑوں کو صاف کرنا ضروری نہیں ،اگرچہ یہ پیپ جیسا پانی مقدار درہم سے تجاوز ہی کیوں نہ کر جائے، اور اگر یہ گمان ہو کہ: اس پیپ جیسے پانی کو دھوکر دوران ِنماز مزید نہ نکلے گا، تو اس صورت میں جسم یا کپڑوں پر لگے ہونے کی صورت میں ان کپڑوں کو دھونا واجب ہوگا اور بغیر دھوئے ہوئے نماز پڑھنے سے نماز نہیں ہوگی۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 60251کی تصدیق کریں
0     164
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات