کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پہلے دن جب مردے کو قبر میں دفناتے ہیں ، دفنانے کے بعد تمام لوگ اجتماعی دعا کرتے ہیں ، سوال یہ ہے کہ لوگوں کے چہروں کا رخ کس طرف ہونا چاہیے ؟ اور اس پہلے دن اجتماعی دعا کرنے کا شرعی حکم کیا ہے ؟ تفصیل سے تحریر فرمائیں عین نوازش ہوگی ۔
پہلے دن کے بعد جب کبھی قبر پر جانے کا اتفاق ہو اور قبر پر مُردے کو قرآن کی تلاوت کرکے یا ذکر اذکار کرکے ثواب پہنچائیں ، تو سوال یہ ہے کہ پڑھنے والے کا چہرہ کس طرف ہونا چاہیے ؟ اور کمر کس طرف ہونی چاہیے اور دعا کرتے وقت ہاتھوں کا اُٹھانا صحیح ہے یا نہیں؟ اگر کوئی طریقہ ہے قبر پر جا کر ایصالِ ثواب کرنے کا ، تو تحریر فرمائیں۔
۱۔ مردے کے دفن کے بعد دعا کرنا خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے اور بلاشبہ جائز اور درست ہے ، پھر اس دعا کے دوران رُو بہ قبلہ ہونا زیادہ بہتر ہے تا کہ استعانت من القبر کا وہم پیدا ہو کر عوام کے لیے فسادِ عقیدہ کا سبب نہ بنے ، پھر چونکہ مذکور دعا کرنا فرض و واجب نہیں ، اس لیے اس میں شرکت نہ کرنے والوں پر نکیر بھی نہیں کرنی چاہیے۔
۲۔ اس صورت میں چہرہ کسی خاص جانب پھیرنے کی تخصیص نہیں ملتی ، البتہ اگر عوام کے فسادِ عقیدہ کا اندیشہ نہ ہو تو رُو بہ قبر ہو کر تلاوت وغیرہ کرنابھی جائز ہے ،ورنہ قبلہ رُخ ہونے کا اہتمام چاہیے اور دورانِ دعا ہاتھوں کا اُٹھانا آدابِ دعا میں سے ہونے کی بنا پر جائز ہے۔
کما فی الفتح الباری : و في حديث بن مسعود رأيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - في قبر عبد الله ذي النجادين الحديث و فيه فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعا يديه أخرجه أبو عوانة في صحيحه اھ(۱۱/۱۷۳)
و فی اعلاء السنن : عن عثمان بن عفان قال كان النبى - صلى الله عليه وسلم - إذا فرغ من دفن الميت وقف عليه فقال ((استغفروا لأخيكم و سلوا له التثبيت فإنه الآن يسأل)) رواہ أبوداود و البیھقی بإسناد حسن اھ(۸/ ۳۲۴)۔
و فی صحیح مسلم : عن محمد بن قيس بن مخرمة بن المطلب أنه قال يوما ألا أحدثكم عني و عن أمي قال فظننا أنه يريد أمه التي ولدته قال قالت عائشة ألا أحدثكم عني و عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قلنا بلى قال قالت لما كانت ليلتي التي كان النبي صلى الله عليه و سلم فيها عندي انقلب فوضع رداءه و خلع نعليه فوضعهما عند رجليه و بسط طرف إزاره على فراشه فاضطجع فلم يلبث إلا ريثما ظن أن قد رقدت فأخذ رداءه رويدا و انتعل رويدا و فتح الباب فخرج ثم أجافه رويدا فجعلت درعي في رأسي و اختمرت و تقنعت إزاري ثم انطلقت على إثره حتى جاء البقيع فقام فأطال القيام ثم رفع يديه ثلاث مرات ثم انحرف اھ (۲/ ۲۴۲)۔