کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
(۱) ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی ہے ، اس کی یہ عادت ہے کہ ہر ہفتے قرآنِ مجید ناظرہ میں ایک ختم کرتا ہے ، وہ قرآن مجید کے آخری تین رکوع چھوڑ دیتا ہے جب پانچ سے سات قرآن مجید جمع ہوجاتے ہیں تو وہ ان چھوڑے ہوئے تین رکوع کو ایک ساتھ پڑھتا ہے اور اس کے بعد اِن جمع شدہ ختموں کا ایصالِ ثواب کرتا ہے ، سوال یہ ہے کہ اس شخص کا ایصالِ ثواب کا طریقہ صحیح ہے یا نہیں ؟ ایصالِ ثواب کا اور کیا طریقہ ہوسکتا ہے؟
(۲) ہمارے یہاں اسلامی نظام نہیں ہے ، اس لئے اگر کسی عورت کو خلع چاہئے تو اُسے کورٹ میں جانا پڑتا ہے ، کورٹ اُس کے شوہر کو نوٹس بھیجتا ہے اگر یہ شخص کورٹ کے نوٹس کے باوجود کورٹ میں حاضری نہ دے تو اُس عورت کو خلع کیسے ملے گا ؟ برائے مہربانی اس کی وضاحت فرمائیں ، عین نوازش ہوگی
(۱) ایصالِ ثواب کے مذکور طریقہ کی بھی گنجائش ہے مگر اس کی کوئی فضیلت نہیں کہ ثواب میں زیاتی کا باعث ہو ، بہتر اور افضل یہ ہے کہ ہر دفعہ کا قرآنِ کریم پورا تلاوت کرنے کے بعد جسے چاہے اس کا ایصالِ ثواب کردے ، اس کے بعد واضح ہو کہ ہر وہ عمل جس کا خود کرنا ثواب ہے اس کا ایصالِ ثواب زندہ یا مردوں کو کرنا بھی جائز اور درست ہے ، مثلاً نوافل وغیرہ پڑھ کر یا کسی غریب و مستحق کی مالی مدد اور تعاون وغیرہ کرکے ایصالِ ثواب کردیا جائے تو یہ طریقہ بھی ایصالِ ثواب کا جائز اور بہتر ہے، البتہ مروّجہ ایصالِ ثواب کے طریقوں سے احتراز کرنا چاہئے جن میں مَردوں اور عوتوں کا باہم اختلاط ہوتا ہے اور اس کے بعد کھانے پینے کی رسم بھی ہوتی ہے اور ہر ایک بلائے جانے والے کی شرکت کو ضروری سمجھتا ہے۔
(۲) ایسی صورت میں عدالت سے تنسیخِ نکاح کا فیصلہ کروانا چاہئے اور اُس سلسلہ میں ہمارے یہاں دار الافتاء سے ایک مضمون دیا جاتا ہے جس کے مطابق درخواست دے دی جائے اور پھر اس پر جو فیصلہ ہوگا وہ شرعاً بھی معتبر ہوگا۔ واﷲ اعلم
و فی البحر : من صَام أو صلّی او تصدّق و جعل ثوابہ لغیرہ من الاموات و الاحیاء جاز و یصل ثوابُہا إلیہم عند اہل السنۃ و الجماعۃ کذا فی البدائع۔ اھـ (ج۳، ص۵۹)۔
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1