کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ درجِ ذیل الفاظ پر کوئی کفر آتا ہے یا نہیں؟ میرے گھر والوں نے یہ نامناسب الفاظ علم نہ ہونے کی وجہ سے زبان سے بولے ہیں ، ان کی تحریر لکھ رہا ہوں:
۱۔ مسٹر اے نے رزق میں کمی اور کاروبار نہ چلنے کی وجہ سے یا دوسری پریشانیوں میں مایوسی میں قسمت کو بُرا بھلا کہاہے اور یوں کہاہے کہ’’ میری قسمت بھی چُتّو ہے‘‘ کیا مسٹر اے سے کفر تو نہیں ہو گیا؟
۲۔ مسڑ بی نے مولویوں کو برا بھلا کہا ہے جیسے اکثر لوگ آج کل برا بھلا یا گالی گلوچ دیتے ہیں مسٹر بی سے بھی یہ غلطیاں ہوئی ہیں، لیکن دنیاوی باتوں میں، کسی دینی معاملے میں بالکل برا بھلانہیں کہا نہ گالی گلوچ دی، کیا مسٹر پر کفر لازم آتا ہے یا نہیں؟
۳۔ مسٹر سی کی کسی سے بحث ہوئی دنیاوی مسائل میں اس نے دوسرے فریق کے پیٹھ پیچھے اسے گالیاں دیں اور اس کی داڑھی پر کچھ غلط بولا، اس طرح کہا کہ ’’میں اس کی داڑھی پکڑکر ہاتھ میں دے دوں گا‘‘، پھر ایک بار کہا ’’اس کی داڑھی پکڑ کر اس کی گانڈھ میں دے دوں گا‘‘ ، کیا مسڑ سی سے کوئی کفریہ الفاظ تو نہیں نکل گئے داڑھی کےبارے میں؟
۴۔ مسٹر ڈی نے باتوں میں صرف ہنسی مذاق میں دوسرے مسلمان کو یہودی کہا ، لیکن دل سے بالکل نہیں بولا، بس مذاق میں کہا تو مسڑ ڈی سے کوئی کفر تو نہیں ہوا؟ ان سب نے توبہ بھی کی ہے ،ان میں سے کسی پر کفر لازم تو نہیں آتا، جس سے تجدیدِ ایمان کی ضرورت ہو ؟اگر کفر لازم آتا ہے تو کیاکرنا ہوگا دوبارہ مسلمان ہونے کے لیے ؟ سب شادی شدہ ہیں ، براہِ کرم تمام صورتوں کے جوابات عنایت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور گالم گلوچ اگر چہ بہت سخت گناہ پر مبنی اور خطرناک عمل ہے، مگر اس کی وجہ سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا ،الا یہ کہ اہلِ علم کو گالیاں بکنا ، اس کے علم سے نفرت کی بناء پر ، اور داڑھی کے متعلق مذکور جملے بولنا اس کے استخفاف اور حقیر سمجھنے کی بناء پر ہو تو اس سے آدمی کافر ہو جاتا ہے اور اس کے بعد توبہ و استغفار کے ساتھ تجدیدِ ایمان و نکاح بھی ضروری ہے۔
ففی صحيح مسلم: عن عبد الله بن مسعود، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «سباب المسلم فسوق و قتاله كفر»(1/ 81)۔
و فی الفقه الاکبر: و لا نکفر مسلماً بذنب من الذنوب و إن کانت کبیرة إذا لم یستحلھا و لا نزیل عنه اسم الإیمان و نسمیہ مؤمنا حقیقة و یجوز أن یکون مؤمنافاسقاً غیرکافر اھ(117)۔
و فی الدر المختار: و عزر كل مرتكب منكر أو مؤذي مسلم بغير حق بقول أو فعل شتم (الیٰ قوله)(و عزر) الشاتم (بيا كافر) و هل يكفر إن اعتقد المسلم كافرا؟ نعم و إلا لا، به يفتى شرح وهبانية اھ (4/68)۔
و في جامع الفصولين: قال له إلبس الثياب البيض فإنه سنة النبي صلى الله عليه وسلم فقال آخر لو كان هذا سنته صلى الله عليه وسلم بس مغان دست بردنداذ يلبسون البيض قيل كفر إذا استخف بسنة النبي عليه السلام قال له احلق رأسك وقلم أظافرك فإنه سنة النبي عليه السلام فقال لا أفعل و لو سنة كفر إذا قاله على وجه الإنكار و كذا في سائر السنن خصوصاً في سنة معروفة و ثبوتها متواتر كسواك و نحوه اه (2/ 168)۔
و فی الشامیة: أنه لو علی وجه المزاح یعزر و لو بطریق الحقارة کفر لأنه إھانة أھل العلم کفر علی المختار اھ(4/72)۔
و فی حاشية ابن عابدين: لأن مناط التكفير، و هو التكذيب أو الاستخفاف عند ذلك يكون أما إذا لم يعلم فلا إلا أن يذكر له أهل العلم اھ (4/ 223)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1