کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے قصداً بغیر وضو کے یا جنابت کی حالت میں نماز پڑھائی ، تو آیا یہ شخص کافر ہوگیا یا نہیں؟ اگر کافر ہوگیا تو اس کا حکم کیا ہے؟ اگر نہیں تو کیا حکم ہے؟ اور ان نماز وں کا کیا ہوگا جو اس نے بغیر وضو کے پڑھائیں ہیں؟ آیا ان کی قضاء کرنی ہوگی یا نہیں؟ اگر قضاء کرنی ہے، لیکن مقتدیوں کا معلوم نہیں ہے ، کون کون سے مقتدی تھے، آیا ایسی صورت میں کیا کرےگا ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ، عین نوازش ہوگی۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص کا بلاطہارت یا جنبی ہونے کی حالت میں نماز پڑھانا اگر استخفاف و استہانت (یعنی نماز کو معمولی چیز سمجھنے) کی بناء پر تھا تو اس صورت میں اس کا یہ عمل بلاشبہ موجبِ کفر ہے، اور جن لوگوں نے اس کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے ان کی نماز قطعاً ادا نہیں ہوئی ، اُن سب پر اس نماز کا اعادہ لازم ہے اور شخصِ مذکور پر احتیاطاً تجدیدِایمان و نکاح لازم اور آئندہ کے لیے ایسی ناجائز حرکات سے احتراز بھی لازم ہے اور یہ کہ مقتدیوں میں فقط یہ اعلان کر دے کہ فلاں دن کی فلاں نماز کا اعادہ کر لیا جائے۔
ففی الدر المختار: أن تعمد الصلاة بلا طهر غير مكفر كصلاته لغير القبلة أو مع ثوب نجس، و هو ظاهر المذهب كما في الخانية اه(1/ 81)۔
و فی حاشية ابن عابدين: (قوله: غير مكفر) أشار به إلى الرد على بعض المشايخ، حيث قال المختار أنه يكفر بالصلاة بغير طهارة لا بالصلاة بالثوب النجس و إلى غير القبلة لجواز الأخيرتين حالة العذر بخلاف الأولى فإنه لا يؤتى بها بحال فيكفر. قال الصدر الشهيد: و به نأخذ ذكره في الخلاصة و الذخيرة، و بحث فيه في الحلية بوجهين: أحدهما ما أشار إليه الشارح. ثانيهما أن الجواز بعذر لا يؤثر في عدم الإكفار بلا عذر؛ لأن الموجب للإكفار في هذه المسائل هو الاستهانة، فحيث ثبتت الاستهانة في الكل تساوى الكل في الإكفار، و حيث انتفت منها تساوت في عدمه، و ذلك لأنه ليس حكم الفرض لزوم الكفر بتركه، و إلا كان كل تارك لفرض كافرا، و إنما حكمه لزوم الكفر بجحده بلا شبهة دارئة اهـ ملخصا: أي و الاستخفاف في حكم الجحود. (قوله: كما في الخانية) حيث قال بعد ذكره الخلاف في مسألة الصلاة بلا طهارة و أن الإكفار رواية النوادر. و في ظاهر الرواية لا يكون كفرا، و إنما اختلفوا إذا صلى لا على وجه الاستخفاف بالدين، فإن كان وجه الاستخفاف ينبغي أن يكون كفرا عند الكل. اه (1/ 81)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1