کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ :
۱۔ بارش کی وجہ سے قبرستان کی حالت بہت خراب ہوگئی ہے، میں آپ سے یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ جو قبر ٹوٹ گئی ہے وہ کس طرح بنے گی؟
۲۔ جن قبروں کی سلپ ٹوٹ کر قبر کے اندر چلی گئی ہے وہ قبر کس طرح بنے گی؟ یعنی سلپ قبر کے اندر سے نکالنی چاہیے کہ نہیں؟
۳۔ اگر ہم مردے کی لاش قبر کے اندر دیکھ لیں تو اُس کی نماز جنازہ دوبارہ ہوگی کہ نہیں؟
۴۔ جو لوگ قبر صحیح کرنے کے لیے قبر کے اندر جا رہے ہیں تو یہ صحیح ہے یا نہیں؟براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ جو قبر بارش یا کسی اور وجہ سے بیٹھ جائے یا اسکی سلپ وغیرہ ٹوٹ جائے تو اس کی مرمت اور اسے صحیح کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے سراخوں کو بند کر کے قبر کے اوپر مٹی ڈال کر قبر نما صورت بنا دی جائے، قبر اکھاڑ کر اندر سے سلپ وغیرہ نکالنا یا قبر کے اندر اتر کر اس کو ٹھیک کرنا درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
اور اسی طرح اگر کسی قبر میں نعش پر نظر پڑجائے تو اس پر دوبارہ نماز جنازہ بھی نہیں، یہ محض عوام کا خیال ہے، جو غلط ہے۔
ففی الدر المختار: (و لا یخرج منه) بعد إهالة التراب (إلا) لحق آدمي الخ (2/ 238)۔
و فی حاشية ابن عابدين: (قوله إلا لحق آدمي) احتراز عن حق الله تعالى كما إذا دفن بلا غسل أو صلاة أو وضع على غير يمينه أو إلى غير القبلة فإنه لا ينبش عليه بعد إهالة التراب۔ (2/ 238)۔
و فی حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح: و أما الثالث إذا غلب الماء على القبر فقيل يجوز تحويله لما روي أن صالح بن عبيد الله رؤي في المنام و هو يقول حولوني عن قبري فقد آذاني الماء ثلاثا فنظروا فإذا شقه الذي يلي الماء قد أصابه الماء فأفتى ابن عباس رضي الله عنهما بتحويله و قال الفقيه أبو جعفر يجوز ذلك أيضا ثم رجع و منع اھ (1/615)۔
و فی الدر المختار: (و إن دفن) و أهيل عليه التراب (بغير صلاة) أو بها بلا غسل أو ممن لا ولاية له (صلي على قبره) استحسانا (ما لم يغلب على الظن تفسخه) من غير تقدير هو الأصح. (2/ 224)۔