کیا فرماتےہیں علماء ِکرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سند دین میں سے ہے، یعنی سند کو ماننا قرآن و حدیث و اجماع کے موافق ہے اور سند کو دین میں سے سمجھنا ، قرآن و حدیث اور اجماع کو ماننا ہے،ہمارے ہاں ایک صاحب کا کہنا ہے کہ سند کو ماننا اور علماءِ محدثین کے اجتہادات، یعنی اسماء الرجال کو ماننا، نہ قرآن میں ہے اور نہ حدیث میں، یعنی یہ کہ سند کے اسماء الرجال کی توثیق اور جرح کو ماننا ، قرآن و حدیث سے موافقت نہیں رکھتا ہے، بلکہ مخالفت رکھتا ہے ، تو ایسےآدمی کی ان بے ہودہ باتوں کا شرعاً کیا حکم ہے؟ اور اس سے تعلقات رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اگر ان صاحب کی بات مان لی جائے تو اس سے دین میں بگاڑ پیدا ہوگا اور لوگ احادیث کے منکر ہو جائیں گے ، براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔
’’ سند‘‘ دین کا حصہ ہے اور اس کو نظر انداز کرنے سے بگاڑ کا اندیشہ ہے، لیکن کسی وجہ سے ، کسی حدیث کی سند کو صحیح نہ ماننے سے کفر کا حکم لگانا درست نہیں، البتہ کوئی شخص اگر واقعۃً اس قسم کی باتیں کرتا ہو تو اس کا یہ عمل فسق کے زمرے میں ہے، جو انتہائی بُرا ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔
ففی صحيح مسلم: قال: سمعت عبدان بن عثمان يقول: سمعت عبد الله بن المبارك، يقول: «الإسناد من الدين، و لولا الإسناد لقال من شاء ما شاء» (1/ 15)۔
و فی صحيح مسلم: عبد الله، يقول: «بيننا و بين القوم القوائم» يعني الإسناد۔(1/ 15)۔
و فی حاشیة صحيح مسلم: (بيننا و بين القوم القوائم) معنى هذا الكلام إن جاء بإسناد صحيح قبلنا حديثه و إلا تركناه فجعل الحديث كالحيوان لا يقوم بغير إسناد كما لا يقوم الحيوان بغير قوائم۔ (1/ 16)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1