کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے بیٹے عمر نے مکمل مسنون داڑھی رکھی ہوئی تھی، زید نے اپنے بیٹے عمر سے کہا کہ مجھے آپ کی یہ داڑھی اچھی نہیں لگتی، دوسری طرف سے عمر داڑھی رکھنے پر اصرار کرتا رہا، آخرکار زید نے عمر کو باندھ لیا اور زبردستی اس کی داڑھی منڈوا کر صاف کردی تو اب پوچھنا یہ ہے کہ زید جیسے شخص کا شریعت میں کیا حکم ہے؟ آیا زید اس عمل سے دائرۂ اسلام سے خارج اور کافر ہوا یا نہیں؟ اور اس کی بیوی کا اس سے نکاح ٹوٹا یا نہیں؟ براہِ کرم جلداز جلد اس مسئلہ میں، شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں راہنمائی فرما کر ممنون فرمائیں۔
واضح ہو کہ ایک مشت (یعنی مٹھی بھر) تک داڑھی کا بڑھانا باجماعِ امت واجب اور انبیاء ِسابقین اور خصوصاً حضور اکرمﷺ کی سنت ہے اور کسی ادنیٰ سی سنت کی تحقیر یا اُس کے ساتھ مذاق بلاشبہ موجبِ کفر ہے، چہ جائیکہ سنت کی تحقیر کے ساتھ ساتھ زبردستی اُسے ختم بھی کیا جائے، اس لیے شخص مذکو رکا والد اپنے اس ناجائز حرکت اور سنتِ رسول کے ساتھ عداوت کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج اور اس کا نکاح بھی ختم ہوچکا ہے اُس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر اللہ تعالیٰ کےحضور خوب گڑ گڑا کر معافی مانگے، توبہ واستغفار کرے اور آئندہ کے لیے ایسی ناجائز حرکات سے مکمل احتراز بھی کرے اور تجدیدِ ایمان ونکاح بھی کرے، اُمید ہے کہ ربِّ کریم بھی اُسے درگزر فرما دیں گے۔
ففی الفتاوى الهندية: ومنها ما يتعلق بالأنبياء - عليهم الصلاة والسلام – (إلی قوله) أو لم يرض بسنة من سنن المرسلين فقد كفراھ (2/ 263)۔
وفی مختصر اليمانيات المسلولة على الرافضة المخذولة: إذا استخف بسنة أو حديث من أحاديثه عليه الصلاة والسلام كفر. انتهى. (ص: 14)۔
وفی البزازیة: والحاصل أنه إذا استخف بسنة أو حديث من أحاديثه عليه الصلاة والسلام كفر.(۶/۳۲۸)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1