السلام علىکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! سوال یہ ہے کے میرے الٹے ہاتھ میں زخم ہے ، چوٹ کی وجہ سے پانی لگنے کی وجہ سے زخم صحیح نہیں ہو رہا ، شوگر کا مریض ہوں ، گذشتہ بارہ سال سے ، کیا وضوء کے دوران ربڑ کے گلوز پہن کر وضو ہو جائے گا ، میرے الٹے ہاتھ کی مڈل فنگر میں زخم قریب پندرہ دن سےہے۔
اگر ہاتھ کے زخمی حصہ پر پانی بہانا نقصان دہ ہو تو سائل کے لئے ہاتھ کا بقیہ حصہ دھو کر اس زخمی حصے پر مسح کرنا یا اس زخمی حصے پر پٹی یا پلاسٹک وغیرہ پہن کر اس کے اوپر مسح کرنا جائز اور درست ہے ، لیکن ایک زخمی انگلی کی وجہ سے پورے ہاتھ پر ربڑ کے گلوز پہن کر وضوء کرنا درست نہیں۔
كما في الدر المختار : فروع في أعضائه شقاق غسله إن قدر و إلا مسحه و إلا تركه و لو بيده و لا يقدر على الماء تيمم و لو قطع من المرفق غسل محل القطع اھ (1/102)۔
و فيه ايضاً : (و يجوز) أي يصح مسحها و لو شدت بلا وضوء) و غسل دفعا للحرج (و يترك) المسح كالغسل (إن ضر وإلا لا يترك (و هو) أي مسحها (مشروط بالعجز عن مسح) نفس الموضع (فإن قدر عليه فلا مسح عليها و الحاصل لزوم غسل المحل و لو بماء حار ، فإن ضر مسحه ، فإن ضر مسحها ، فإن ضر سقط أصلا اھ (1/280)۔