السلام علیکم جناب اعلی
گذارش عرض یہ ہے کہ مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بھی بچے کو کہیں سے بھی اٹھا کر پالتا ہے یا کسی رشتے دار سے وہ بچہ مانگتا ہے اور پھر اس کی پرورش کرتا ہے اور اس کو اپنا نام ولدیت بھی دیتا ہے اور جب وہ بچہ بڑا ہو جاتا ہے تو اس بچے کو پالنے والے والدین کی وراثت میں حصہ لےسکتا ہے یا نہیں ؟
واضح ہوکہ گود لیا ہوا بچہ گود لینے سے حقیقی اولاد کی طرح وارث نہیں بنتا،بلکہ وہ اپنے حقیقی والد کے ترکہ سے ہی حصہ پاتاہے،البتہ اگر لے پالک کا پرورش کرنے والے اپنی جائیداد کچھ دینا چاہیں تو زندگی میں ہی باضابطہ مالکانہ حقوق و قبضہ کے ساتھ دیدے یا پھر اس کے لئے ایک تہائی حصہ کی وصیت کرکے لوگوں کو اس پر گواہ بنادے تاکہ پرورش کرنے والے کی وفات کے بعد ترکہ کی تقسیم سے قبل وصیت کے مطابق اسے حصہ دیدیا جائے،جبکہ لے پالک کی ولدیت میں غیر والد کا نام لکھنا شرعاً جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1