کیا فرماتے ہیں علماء کرام و فقہاءِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ باغ کو اجارہ پر دینے کے لیے مندرجہ ذیل حیلہ پر عمل درآمد کرتے ہوئے زمیندار کو جو رقم اپنے ایک حصہ کی جو اس نے ایک ہزار میں سے اپنے لئے رکھا ہے اور اس ایک حصہ کی قیمت ایک کروڑ بنتی ہے تو اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ زمیندار یہ جو رقم وصول کرتے ہیں اس پر عشر ہے یا نہیں؟ (حیلہ ) کہ پہلے مالک درختوں کو مساقاة ( بٹائی) پر اس شرح سے دیدے کہ ایک ہزار میں سے ایک حصہ مالک کا، اور باقی تمام حصے مساقی ( بٹائی کرنے والے) کے، اور اس کے بعد اسی شخص کو وہ زمین اتنے کرایہ پر دیدے کہ جو زمین کے کرایہ اور پھلوں کی قیمت کے برابر ہو یعنی مارکیٹ میں عموماً باغ کی قیمت ایک کروڑ ہو اتنی رقم میں کرایہ پر دیدے ، لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ زمین زراعت کے قابل ہو، ورنہ زمین کو کرایہ پر دینا صحیح نہیں ہوگا۔
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق باغ کے مالک اور کام کرنے والے شخص کے درمیان جس تناسب سے مساقات کا عقد ہوا ہے ، اسی تناسب کے مطابق ہر ایک کے ذمہ پھلوں کا عشر لازم ہو گا، چنانچہ باغ کے پھلوں کے فقط ایک حصہ کا عشر باغ کے مالک کے ذمہ اور بقیہ پھلوں کا عشر کام کرنے والے شخص کے ذمہ لازم ہو گا، جبکہ مساقات کا معاملہ ہو جانے کے بعد اگر شرعی شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے مالک، باغ کی زمین کو کرایہ پر دیدے تو کرایہ کے مد میں اسے جو رقم حاصل ہو گی اس رقم میں عشر لازم نہیں، بلکہ باغ کے مالک کے ذمہ اس رقم کی زکوٰۃ لازم ہو گی۔
ففي المحيط البرهاني في الفقه النعماني: و في «القدوري» : إذا استأجر أرضاً سنة فيها رطبة، فالإجارة فاسدة، فإن قلع رب الأرض وسلمها أرضاً بيضاء فهو جائز، وقاسه على ما إذا باع الجذع في السقف ثم نزع الجذع وسلمه إلى المشتري، وإن اختصما قبل ذلك فأبطل الحاكم الإجارة ثم قلع الرطبة، فالمستأجر بالخيار، إن شاء قبضها على تلك الإجارة وطرح عنه أجر ما لم يقبض، وإن شاء ترك، هذا جملة ما ذكره في «القدوري» ، ثم الزرع إذا لم يدرك، وأراد جواز الإجارة في الأرض.
فالحيلة في ذلك: أن يدفع الزرع إليه معاملة، إن كان الزرع لرب الأرض على أن يعمل المدفوع إليه في ذلك بنفسه، وأجرائه وأعوانه على أن ما يرزق الله تعالى من الغلة، فهو بينهما على مئة سهم، سهم من ذلك للدافع، وتسعة وتسعون سهماً للمدفوع إليه، ثم يأذن له الدافع أن يصرف السهم الذي له إلى مؤنة هذه الضيعة أو شيء أراد، ثم يؤاجر الأرض منه، وإن كان الزرع لغير رب الأرض ينبغي أن يؤاجر الأرض منه بعد مضي السنة التي فيها الزرع (29ب4) فيجوز، وتصير الإجارة مضافة إلى وقت في المستقبل. وحيلة أخرى إذا كان الزرع لرب الأرض أن يبيع الزرع منه بثمن معلوم ويتقابضان ثم يؤاجر الأرض منه، وكذلك الحيلة في الشجر والكرم، يدفع الأشجار والكرم معاملة أو يبيع الأشجار والكرم منه، ثم يؤاجر الأرض منه، ثم إن بعض مشايخنا زينوا حيلة بيع الأشجار والكروم، وكانوا لا يجوزون إجارة الأراضي فيها أشجار وكروم بهذه الحيلة، وكانوا يقولون: بيع الأشجار هاهنا بيع تلجئة لا بيع رغبة بدليل أن المستأجر يمنع عن قلع الأشجار، وإذا كان بيع تلجئه لا يزيل الأشجار عن ملك صاحبها، فحين يؤاجر الأرض كانت الأرض مشغولة بحق المؤاجر، فلا يجوز. (7/ 477)
و في الفتاوى الهندية: و في المزارعة على قولهما العشر عليها بالحصة وعلى قوله على رب الأرض لكن يجب في حصته في عينه و في حصة المزارع يكون دينا في ذمته كذا في البحر الرائق ولو هلك الخارج سقط العشر عنهما عندهما وعند أبي حنيفة رحمه الله تعالى قبل الحصاد كذلك وبعده لا يسقط عنه عشر حصة المزارع ويسقط في حصته ولو استهلكه رجل بعد الاستقصاء قبل الحصاد أو سرقه فلا عشر حتى يؤدي المستهلك الضمان فيجب على رب الأرض عشر البدل وعندهما عليهما كذا في محيط السرخسي اھ (1/ 187)
عشر کی رقم چچاز زاد اور پھوپھی کو دینا - بیت الخلاء میں وضو کرتے وقت دعائیں پڑھنا
یونیکوڈ عشر و خراج 0