السلام علیکم
والد کے انتقال کے بعد جو ان کی وراثت ہے , وہ کن کن میں تقسیم ہو گی؟ صرف بچوں میں یا رشتہ داروں میں بھی کر نا ضروری ہے تقسیم ؟
واضح ہو کہ سائل کے والد نے اگر سب چیزیں اپنی محنت وغیرہ سے بنائی تھیں ،اس میں دادا وغیرہ کا کوئی حصہ نہیں تھا ،تو سائل کے والد کا ترکہ اسکی بیوی ،بیٹوں اور بیٹیوں میں تقسیم ہوگا،جبکہ والد کی وفات کے وقت اگر ان کے والدین میں سے کوئی زندہ تھا ،تو ان کو بھی حصہ ملے تھا -
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0