مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ میرے والد صاحب نے کچھ زمین جو میرے دادا کی طرف سے حصہ بنتا تھا ,میری والدہ کے نام بطورِ تحفہ اس خیال سے کروائی تھی کہ میری والدہ کے نام ہو گئی تو بھی آگے ہم بچوں میں ہی تقسیم ہو گی , اس کے بعد 1999 میں میرے والد صاحب نے دوسری شادی کرنے کا ارادہ کر لیا اور میری والدہ سے کہا کہ زمین مجھے واپس کرو , میری والدہ اور ہم آٹھ بہن بھائیوں کو پتا تھا کہ اب ابو زمین اس وجہ سے مانگ رہے ہیں کہ انہوں نے دوسری شادی کرنی ہے , میری والدہ نے انکار کر دیا جس پر انہوں نے والدہ کو مار کٹائی کر کے زبردستی زمین , گھر میں پٹواری بلوا کر انگوٹھے لگوا لیے اور دوسری شادی کر کے ہمیں چھوڑ دیا , ابتدائی کچھ عرصہ میں ہماری بہنوں کو خرچہ وغیرہ دیتے رہے ماں اور لڑکوں کو نہیں , بعد میں جب دوسری بیوی سے تین بچے ہو گئے تو ہماری طرف سے توجہ بالکل ختم ہو گئی کیوں کہ ہمارے سوتیلے بہن بھائیوں کو زیادہ اہمیت دیتے تھے اور علی الاعلان کہتے تھے کہ یہ بچے مجھے سب سے پیارے ہیں, ایک دو سال بعد جو تھوڑا بہت دیتے تھے وہ بھی بالکل ختم کر دیا اور ہماری والدہ کو ایک دن بحث مباحثے کے دوران طلاق دے دی , میری والدہ فالج کے اٹیک سے کچھ عرصہ بیمار چارپائی پر مفلوج رہنے کے بعد وفات پا گئیں, ہم آٹھ بہن بھائیوں میں سے چھ کی شادیاں ہو چکیں جن میں سے چار نے شادی کے اخراجات خود کیے صرف دو بہنوں کی شادی میں والد صاحب نے حصہ ملایا , اب والد صاحب وفات پا چکے ہیں اور ان کی جو منقولہ جائیداد ہے(ٹریکٹر ،مشینری،جانور،فصل وغیرہ)جس کی مالیت ستر لاکھ کے قریب ہے اس کو سوتیلےبھائی ہڑپ کر گئے ہیں , کہتے ہیں اس پر تمہارا کوئی حق نہیں کیونکہ تم ابو کے ساتھ نہیں رہتے تھے ,باقی جو زمین ابو کے نام پر ہے وہ وراثت کروا کر لےلو جبکہ ابو نے پہلے سے بھی کچھ زمین ان کے نام کروائی ہے, اب سوال یہ ہے کہ ہم نے منقولہ جائیداد کا کیس کیا ہوا ہے جس سے ہمیں ہمارا حصہ تو مل جاۓ گا لیکن پورا نہیں ملے گا کیونکہ انہوں نے عدالتی نمائندے کے آنے سے پہلے چیزیں غائب کر دیں تھیں جو چیزیں وہاں موجود تھیں وہ لکھ کر لے گیا جبکہ دوسری طرف جو زمین ابو نے ہمارے سوتیلے بھائیوں کے نام لی تھی اور امی سے واپس لی تھی اس کا کیس بھی عدالت میں چل رہا اور ہمارا وکیل کہتا ہے کہ آپ کا کیس مضبوط ہے , امی والی زمین واپس امی کے نام منتقل ہوکر آپ کو ملے گی اور سوتیلے بہن بھائیوں نے جو اضافی زمین لی ہے وہ بھی ابو کے نام پر واپس ہو کر دوبارہ برابر تقسیم ہوگی, جتنی جتنی بھی حصہ میں آئی , اب اگر کیس ہمارے حق میں ہوتا ہے اورقانونی طور پر زمین ہم کو مل جاتی ہے تو کیا شرعی طور پر بھی ہم حق پر ہوں گے یا ناجائز ہو گا؟
واضح ہو کہ جو مسئلہ عدالت میں زیر سماعت ہو ، اس سے متعلق دارالافتاء سے باقاعدہ تحریری فتوی جاری نہیں ہوتا ، تاہم سوال میں ذکرکردہ تفصیل کی روشنی میں سائل کے والد مرحوم کی جائیداد میں سے اگر قانونی طورپر سائل اور اس کے دیگر بہن بھائیوں کو اتنا حصہ مل جائے جو ان کا شرعی حق ہے، تو ان کے لئے اس کا لینا شرعابھی جائز اور درست ہوگا، ورنہ نہیں۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1