میں مختلف فتاوٰی کا مطالعہ کر رہا تھا کہ طلاق سے متعلق فتاوٰی سامنے آئے۔ ان فتاوٰی میں خصوصاً "صریح" الفاظ کے حوالے سے مجھے بہت الجھن ہوئی۔ بے شمار الفاظ کو "صریح" میں شمار کیا گیا ہے، جس سے نکاح کو برقرار رکھنا ایک نہایت مشکل معاملہ محسوس ہوتا ہے۔ بچپن سے میری سمجھ میں یہی تھا کہ علیحدگی کے لیے صرف لفظ "طلاق" ہی استعمال کیا جاتا ہے، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے دیگر الفاظ کو بھی "صریح" قرار دے کر ان پر بھی طلاق واقع ہونے کا حکم لگا دیا جاتا ہے۔
میری علماء کرام سے عاجزانہ گزارش ہے کہ اگر ممکن ہو تو اس مسئلے میں مسلمانوں پر پڑنے والے بوجھ کو پیشِ نظر رکھیں۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ یہ تمام "صریح" الفاظ قرآن و سنت کی تعلیمات کی بنیاد پر طے کیے گئے ہیں یا نہیں، لیکن عملاً ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ ان الفاظ کو ہرگز طلاق کے ارادے سے نہیں بولتے۔ جب واقعی علیحدگی کا ارادہ ہوتا ہے تو عموماً صرف لفظ "طلاق" ہی استعمال کیا جاتا ہے، کوئی اور لفظ نہیں۔ اس لیے ہر دوسرے لفظ کو طلاق قرار دینا بظاہر مناسب محسوس نہیں ہوتا۔
میری عاجزانہ درخواست ہے کہ ان فتاوٰی پر نظرِ ثانی فرمائی جائے، کیونکہ ہمارے معاشرتی ماحول میں چاہے ڈراموں میں ہو یا بڑوں کی زبان میں طلاق کے لیے لفظ "طلاق" کے سوا کوئی اور لفظ کبھی استعمال نہیں ہوا۔
عام معاشرتی ماحول میں اگرچہ میاں کی علیحدگی کے لئے لفظ "طلاق" ہی کا استعمال معروف ہے، اور عام مسلمان بے شمار دیگر الفاظ کو طلاق کے معنی میں نہیں سمجھتے، لیکن علاقائی عرف اور ان الفاظ کے استعمال کرتے وقت پس منظر کی وجہ سے بہت سارے الفاظ سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے،جوفقہاء کرام کی ذاتی رائے سے نہیں ، بلکہ لغتِ عرب اور نصوص کے استعمال کی بنیاد پر متعین ہوئے،لہذا اس طرح کے دقیق اور مشکل مباحث کا از خود مطالعہ کرنے کے بجائے کسی مستند عالم دین یا مفتیان کرام سے رابطہ کر کے ہی مباحث سمجھنے کی ضرورت ہے ورنہ اس کے بغیر ذاتی مطالعہ وہم اور وساوس میں مبتلا ہونے کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے اس سے حتی الامکان احتیاط ضروری ہے۔
کما قال اللہ تعالی: (ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَان الخ)۔ (البقرۃ: 229)
و قال اللہ تعالی: (يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَالخ)۔ (الطلاق: 1)
و فی سنن ابن ماجہ: (أَبْغَضُ الحَلَالِ إِلَى اللَّهِ الطَّلَاقُ)۔ (رقم الحدیث:2178)
وفی الدر المختار: والصريح ما لا يحتمل غير الطلاق لغةً وعرفًا (الی قولہ) إنما يُعدُّ اللفظ صريحًا إذا كان استعماله في معنى الطلاق غالبًا بلا قرينة الخ۔ (ج 3، ص: 236، ط: دار الفكر)۔
وفی قواعد ابن نجیم: تغیر الأحكام بتغير الزمان الخ۔ (ص: 98)
وفی المبسوط للسرخسی: إنما تُبنى الأحكام على العرف، لأنه كالشرط بين الناس الخ۔ (ج 6، ص 3، ط: دار المعرفة)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1