کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ اگر کسی کی بیوی فوت ہو جائے تو اس کا شوہر اسے غسل دے سکتا ہے ؟ اور کیا اس کا چہرہ دیکھ سکتا ہے ؟ اور قبر میں اتار سکتا ہے ؟ قرآن اور حدیث کی روشنی میں ان تمام مسائل کی وضاحت فرمائیں ۔ شکریہ
بیوی کے انتقال کے بعد زوجین کا نکاح ختم ہو جاتا ہے، اس لۓ شوہر بیوی کو کسی بھی حال میں غسل نہیں دے سکتا، البتہ بیوی کا چہرہ دیکھ سکتا ہے، مگر جسم کو ہاتھ نہیں لگا سکتا ، جبکہ عورت کو قبر میں اتارنے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر عورت کے محارم ( باپ بھائی وغیرہ ) موجود ہوں تو شوہر بیوی کی میت کو قبر میں نہیں اُتار سکتا، البتہ محارم میں سے کوئی موجود نہ ہو تو اَجانب سے بہتر شوہر ہی ہے کہ وہ بیوی کی میت کو قبر میں اتار دے ۔
في تنویر الأبصار: (ويمنع زوجها من غسلها ومسها لا من النظر إليها على الأصح) اھ (۲/۱۹۸)۔
وفي الفتاوى الهندية: وذو الرحم المحرم أولى بإدخال المرأة من غيرهم، كذا في الجوهرة النيرة وكذا ذو الرحم غير المحرم أولى من الأجنبي فإن لم يكن فلا بأس للأجانب وضعها، كذا في البحر الرائق اھ (1/ 166)۔
وفی البحر الرائق: وذو الرحم المحرم أولى بادخال المرأة القبر، وكذا الرحم غير المحرم أولى من الأجنبي و ان لم يكن فلا بأس للأجانب وضعها اھ ( 2/193 )۔