السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ !
الحمد للہ میں مسلمان ہوں اور میری شادی بھی ایک مسلمان سے ہوئی ہے اور دو میرے بچے ہیں ، اب مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر جو ہیں کام کی وجہ سے ان کو مالی مسائل تھے اور انہیں کام میں پروبلم تھی ، تو اس وجہ سے انہوں نے اپنا مذہب تبدیل کرکے اپنے کام کے لئے ، مسلمان سے تبدیل کرکے "جودیزم" کروا لیا ہے اور وہ ڈاکومنٹس میں ان کا مذہب چینج ہوا ہے تو وہ یہ کہتے ہیں یہ مذہب چینج کرنا ، یہ صرف ڈاکومنٹس کی حد تک ہے ، دل سے میں مسلمان ہوں اور گھر میں وہ ایسا کچھ بھی نہیں کرتے جو "جودیزم" کی پریکٹس یا ان کا طریقہ کار ہوتا ہے ،کلمہ بھی پڑھتے ہیں، لیکن روزہ نہیں رکھتے اور نماز نہیں پڑھتے ، ویسے جو ہے اللہ کا نام بھی لیتے ہیں اور کلمہ بھی پڑھتے ہیں ، تو پوچھنے کا مطلب یہ تھا کہ کیا میرا ان کے ساتھ نکاح میں رہنا ٹھیک ہے اسلام کی رو سے ؟ میرا دین جو ہے مجھے اس چیز کی اجازت دیتا ہے کہ میں اس بات کے بعد بھی ان کے ساتھ نکاح میں رہوں ؟کیونکہ میں اپنے مذہب کو ڈاکومنٹس کے لۓ بھی چینج نہیں کرنا چاہ رہی ، میں مسلمان ہی رہنا چاہتی ہوں ہر طریقے سے ، اور میں اپنے بچوں کو بھی مسلمان ہی رکھنا چاہتی ہوں ، تو پلیز مجھے اس بارے میں رہنمائی فرمائیں
شکریہ
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو ، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعۃً سائلہ کے شوہر نے دنیوی مالُ و متا ع کی خاطر بغیر کسی جبر و اکراہ کے کاغذات میں اسلام کے بجائے یہودیت لکھوایا ہو ، اگرچہ زبان سے وہ مسلمان ہونے کا اقرار کرتا ہو ،تب بھی اس کا یہ عمل کفریہ ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں ،بلکہ گناہِ کبیرہ ہے ،اور اس کی وجہ سے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو چکا ہے ،لہذا اس پر لازم ہے کہ اپنے اس کفریہ عمل سے بصدقِ دل توبہ تائب ہوکر، تجدیدِ ایمان کرے اور یہودیت سے براءت کرتے ہوئے کاغذات میں مذہبِ اسلام درج کروائے اور جب تک سائلہ کا خاوند یہودیت سے براءت اور تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح نہ کرلے ،تب تک سائلہ کا اس کے ساتھ بیوی کی طرح رہنا شرعاً جائز نہیں ،لیکن اگر سائلہ کا شوہر تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کیلئے آمادہ نہ ہو تو سائلہ بذریعۂ عدالت تفریق کرواسکتی ہے اور اس صورت میں سائلہ گناہ گار بھی نہ ہوگی ۔
کما فی الشامیۃ : و قد حقق في المسايرة أنه لا بد في حقيقة الإيمان من عدم ما يدل على الاستخفاف من قول أو فعل(الیٰ قولہ) قال في المسايرة : و بالجملة فقد ضم إلى التصديق بالقلب ، أو بالقلب و اللسان في تحقيق الإيمان أمور ، الإخلال بها إخلال بالإيمان اتفاقا ، كترك السجود لصنم ، و قتل نبي و الاستخفاف به ، و بالمصحف و الكعبة . و يظهر من هذا أن ما كان دليل الاستخفاف يكفر به ، و إن لم يقصد الاستخفاف لأنه لو توقف على قصده لما احتاج إلى زيادة عدم الإخلال بما مر لأن قصد الاستخفاف مناف للتصديق(الیٰ قولہ) من صدق بقلبه و امتنع عن الإقرار بالشهادتين عنادا و مخالفة فإنه أمارة عدم التصديق (الیٰ قولہ) ذكر في المسايرة أن ما ينفي الاستسلام أو يوجب التكذيب ، (الی قولہ)كل ما قدمناه عن الحنفية أي مما يدل على الاستخفاف ، و ما ذكر قبله من قتل نبي إذ الاستخفاف فيه أظهر (الیٰ قولہ ) إذا أطلق الرجل كلمة الكفر عمدا ، لكنه لم يعتقد الكفر قال بعض أصحابنا : لا يكفر لأن الكفر يتعلق بالضمير و لم يعقد الضمير على الكفر ، و قال بعضهم: يكفر و هو الصحيح عندي لأنه استخف بدينه اھ (4/224)۔
و فی الدر المختار : (و ارتداد أحدهما) أي الزوجين (فسخ) فلا ينقص عددا (عاجل) اھ (3/193)۔
و فی البحر الرائق : و الإيمان التصديق بجميع ما جاء به محمد - صلى الله عليه و سلم - عن الله تبارك و تعالى مما علم مجيئه به ضرورة و هل هو فقط أو هو مع الإقرار ؟ قولان فأكثر الحنفية على الثاني و المحققون على الأول و الإقرار شرط إجراء أحكام الدنيا بعد الاتفاق على أنه يعتقد متى طولب به أتى به فإن طولب به فلم يقر فهو كفر(الی قولہ)و في المسايرة و لاعتبار التعظيم المنافي للاستخفاف كفر الحنفية بألفاظ كثيرة و أفعال تصدر من المتهتكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمدا بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافا بها بسبب أنه إنما فعلها النبي - صلى الله عليه و سلم - زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ ( 5/129)۔
و فی الفتاویٰ التاتارخانیۃ : و اذا قال لغیرہ : یا کافر یا یھودی یا مجوسی فقال : لبیک یکفر اھ (7/340)۔
و فی البحر الرائق : و بقوله لبيك جوابا لمن قال يا كافر يا يهودي يا مجوسي و بقوله أنا ملحد لأن الملحد كافر و لو قال ما علمته لا يعذر اھ (5/133)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1