السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ چار لوگ آپس میں ترکہ تقسیم کررہے ہیں ان میں انکی ایک مشترکہ گاڑی بھی ہے اور ایک سرکاری ملازم بھی, اب وہ ملازم تینوں سے کہتا ہے کہ آپ لوگ گاڑی مجھے دیدیں میں آپکو ہر ماہ اپنی تنخواہ سے بیس بیس ہزار دیتا رہوںگا , گاڑی کی قیمت پوری ہونے تک ،کیا ایسا کرنا درست ہے ؟
مذکور گاڑی بھی اگر ترکہ کی ہو ،تو اس میں تمام ورثاء اپنے حصوں کے بقدر حقدار ہیں ،لہذا ورثاء میں سے اگر کوئی وارث ، مذکور گاڑی میں باقی افراد کےحصص خرید کرانہیں قسطوار رقم ادا کرے اور باقی ورثاء سارے عاقل و بالغ ہوں، تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ،تاہم اگر سائل کو اس کے متعلق کوئی شبہ ہو تو اس کی وضاحت کرکے سوال دوبارہ ای میل کردے ،اس پرغور و فکر کے بعد ان شاء اللہ اس کے متعلق حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائے گا۔
فی الدرالمختار : (و لزم تأجيل كل دين) إن قبل المديون (إلا) في سبع على ما في مدينات الأشباه , بدلي صرف و سلم(5/157)۔
و فی ردالمحتار : مطلب في تأجيل الدين (قوله : و لزم تأجيل كل دين) الدين ما وجب في الذمة بعقد أو استهلاك ، و ما صار في ذمته دينا باستقراضه فهو أعم من القرض ، كذا في الكفاية(5/157)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1