میرے رشتہ داروں میں ایک بہن کا انتقال ہو گیا ہے،ان کی چھ سال کی بیٹی ہے،باقی شوہر ہیں،مسئلہ یہ ہے کہ اس بہن کے پاس کچھ زیورات تھے جو کہ اب اس کے شوہر کے پاس ہیں،اس زیورات پر کس کا حق ہے؟
واضح ہو کہ کسی بھی شخص کے انتقال کے بعد اس کا تمام ساز و سامان خواہ اس کے اپنے پاس ہو یا کسی کے پاس بطورِ امانت کے رکھا ہو ، اس کا ترکہ بن کر اس کے تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کیا جاتا ہے ۔
لہذا صورتِ مسؤلہ میں سائل کی مرحومہ بہن کے ذاتی زیورات(خواہ حق مہر کے ہوں یا والدین اور سسرال والوں کی طرف سے بطورِ گفٹ دیے گئے ہوں)مرحومہ کا ترکہ شمار ہوگا اور تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا۔
جبکہ بوقتِ ضرورت ورثاء کی مکمل تفصیل لکھ کر سوال بھیج دیں تو انشاء اللہ غور و فکر کے بعد تقسیم کا شرعی طریقہ کار بھی بتا دیا جائے گا۔
قال اللہ تعالی : ﴿يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين﴾ (النساء: 11)-
و فی البحر الرائق : قال - رحمه الله - (يبدأ من تركة الميت بتجهيزه) المراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه(8/557)-
و فی الدر المختار : (ثم)(يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته) أي الذين ثبت إرثهم بالكتاب أو السنة(6/7629)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1