السلام علیکم :مفتیانِ کرام ! مندرجہ ذیل مسئلہ میں دینی حوالے سے رہنمائی درکار ہے,زید جسکی عمر اکتیس سال ہے اسکے خاندان میں اسکی دو بیویاں ایک جڑواں بھائی ، بیوہ والدہ شامل ہیں، زید نے مختلف کاروبار میں انوسٹمنٹ کی ہوئی تھی جو کہ لوگوں سے حاصل کردہ رقوم پر مبنی تھی اور اس پر ان کو طے شدہ نفع بھی دیا جاتا تھا۔ زید کے کاروبار میں اس کے جڑواں بھائی اور والدہ نے بھی خطیر رقم لگا رکھی تھی جو کہ ان کے شوہر کی وفات کے بعد حاصل ہوئی تھی، سوال یہ ہے کہ زید نے اس کاروبار سے حاصل شدہ نفع سے مختلف پراپرٹیز اور زمینیں خرید کر اپنی بیویوں کے نام منتقل کردی تھیں ،اب جب کہ زید کا انتقال ہو چکا ہے تو کیا یہ پراپرٹیز مرحوم کے کل ترکہ میں شمار ہوں گی یا بیویوں کی ملکیت تصور کی جائیں گی، کیا ان جائیدادوں کو فروخت کرکے مرحوم کے ذمہ تمام قرض کی ادائیگی کیا جانا شرعی طریقہ کے عین مطابق ہوگا یا نہیں ؟ جن تمام افراد جنہوں نے کاروبار میں انوسٹمنٹ کی تھی جو کہ تحریر شدہ معاہدہ کی صورت میں ہے ، ان کی ادائیگی کی کوئی دیگر شرعی صورت کیاہوسکتی ہے ؟جب کہ کاروبار کی باقیات میں کوئی اور رقوم یا اثاثہ جات موجود نہ ہوں جس کو فروخت کرکے قرض کے بوجھ سے مرحوم کو آزاد کیا جاسکے۔ جزاک اللہ خیراًکثیراً
سوال میں یہ صراحت مذکور نہیں کہ مرحوم نے کا روباری منافع سے جو جائیدادیں خرید کراپنی بیویوں کے نام کی ہیں ،تو کیا مرحوم نے انہیں ان جائیدادوں پر باضابطہ مالکانہ قبضہ دیا تھا یا نہیں ؟ تا کہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر زید مرحوم نے اپنی زندگی میں،مذکور جائیدادیں اپنی بیویوں کو باضابطہ مالکانہ قبضے کیساتھ دیدی ہوں تو ایسی صورت میں شرعاً مرحوم کی بیویاں ان جائیدادوں کی مالک ہونگی ،اب انہیں فروخت کرکے مرحوم کے قرضہ جات کی ادائیگی کرنا یا اس میں دیگر ورثاء کو حصے کامطالبہ کرنا درست نہ ہوگا ،البتہ اگر مرحوم نے یہ جائیداد فقط اپنی بیویوں کے نام کی ہو ں انہیں ان جائیدادوں پر باضابطہ مالکانہ قبضہ نہ دیا ہو تو فقط نام کر دینے سے مرحوم کی بیویاں شرعاً ان جائیدادو ں کی مالک نہ ہونگی ،بلکہ یہ جائیدادیں مرحوم کی وفات تک بدستور اس کی ملکیت میں رہ کر اب دیگر ترکے کا حصہ شمار ہونگی ،جس میں سے قرضہ کی ادائیگی کے بعد دیگر ترکے کی طرح بیواؤں سمیت مرحوم کے تمام ورثاء میں حسبِ حصص شرعیہ تقسیم کی جائیں گی ۔
کمافی الدرالمختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،(5/690)۔
وفی البحرالرائق: (قوله فإن قسمه وسلمه صح) أي لو وهب مشاعا يقسم ثم قسمه وسلمه صح وملكه لأن التمام بالقبض وعنده لا شيوع فأفاد أنه لو قبضه مشاعا لا يملكه فلا ينفذ تصرفه فيه لأنها هبة فاسدة مآلا وهي مضمونة بالقبض ولا تفيد الملك للموهوب له وهو المختار فلو باعه الموهوب له لا يصح كذا في المبتغى بالمعجمة وأفاد أنه لو دفع درهمين إلى رجل وقال أحدهما هبة لك والآخر أمانة عندك فهلكا جميعا يضمن درهم الهبة وهو في الآخر أمين كذا في فتاوى قاضي خان(7/286)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1