سوال یہ ہے کہ جب ایک عورت اپنے شوہر( سید نیاز حسن) کے انتقال کے بعد بیوہ ہو گئی، اور پھر چند سال بعد اس نے کسی اور سے نکاح کر لیا، اور ابھی جب جائیداد تقسیم ہونی ہے تو کیا اسکے پہلے شوہر کی جائیداد تقسیم ہونے میں اُس عورت کو کوئی حصہ بیوہ ہونے کی حیثیت سے ملےگا ؟ کیسے ؟
جی ہاں بیوہ کو اپنے شوہر کی وفات کے بعد اسکی وراثت میں سے شرعی حصہ ملتا ہے اگرچہ بیوہ نےعدت کے بعدکسی اور شخص سے نکاح کر لیا ہو، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور مرحوم سید نیاز حسین کے ورثاء میں اگر اولاد بھی ہو تو اسکی بیوہ کو کل ترکہ کا آٹھواں حصہ، جبکہ اولاد کے نہ ہونے کی صورت میں کل ترکہ کا چوتھائی حصہ ملے گا ، تقسیم کا مکمل طریقۂ کار معلوم کرنے کیلئے ورثاء کی تفصیل ارسال کردیں تو ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا۔
کما فی السراجی فی المیراث: اما للزوجات فحالتان، الربع للواحدة فصاعدة عند عدم الولد ولد الابن وان سفل، والثمن مع الولد او واو الابن وان سفل۔ اھ (ص:7)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1