السلام علیکم
مسئلہ یہ ہے کہ میری امی , میری نانی کی لے پالک اولاد ہے، مطلب دیورکی بیٹی گود لی تھی، میری نانی میں مسئلہ یہ ہے کہ نانی کی سگی کوئی اولاد نہیں تھی میری امی کےعلاوہ ، میری امی کا انتقال 2022 میں ہوا تھا اور میری نانی کا اس سے پہلے ،پوچھنا یہ ہے کہ ہم جس گھر میں ہیں وہ میری نانی کا ہے ،کیا اس میں سے میری امی مرحومہ کو حصہ ملے گا ؟ اور ایک یہ بات بتا تی چلو ں کہ میری امی کے سارے ڈاکومنٹس اسی نانا اور نانی کے نام سے بنے ہوئے ہیں پہلی سے ہی ، شادی سے پہلے والا "nic"ان کا بے فارم سب کچھ ، اب ان کا ایک گھر ہے، اور میری امی ان کی لے پالک واحد اولاد ہے ، اس گھر میں ان کا حصہ ہے یا نہیں ؟ اور نواسوں اور نواسیوں کو مل سکے گا یا نہیں ؟ہمارے حصے میں گھر آجائے گا ؟ اور میری نانی کا ایک بھائی اور ایک بہن حیات ہیں ، اور اگر ہمیں نہیں ملے گا تو کیا میرے نانا کے سگے بھتیجوں کے حصہ میں آئے گا ؟ جبکہ گھر میری نانی کے نام پے ہے نانا کے نہیں۔
واضح ہو کی کسی بچے کو گود لینے سے وہ حقیقی بیٹا نہیں بنتا اور نہ ہی حقیقی بیٹے کی طرح اس کو گود لینے والے کی میراث میں سےحصہ ملتا ہے ،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کی والدہ مرحومہ کو گود لینے والی نانی مرحومہ کے ترکہ میں سے شرعاً کوئی حصہ نہیں ملے گا ،بلکہ نانی مرحومہ کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اس کی وفات کے وقت موجود مذکور بھائی بہن سمیت جو بھی شرعی ورثاء موجود ہوں ان کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ،تاہم اگر نانی مرحومہ کے ورثاء اپنی مرضی و خوشی سے مرحومہ کی لے پالک بیٹی یعنی(سائلہ )کو کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے،مگر ایسا کرنا ان پر شرعاً لازم نہیں ۔
جبکہ نانی مرحومہ کے بھائی اور بہن کی موجودگی میں ان کے بھتیجے وغیرہ شرعاً محروم ہونگے ،تاہم سائل کی والدہ کا nic وغیرہ کاغذات میں اپنی نسبت اپنے حقیقی والدین کے بجائے مذکور عورت اور اس کے خاوند کی طرف کرنا شرعاً درست نہیں تھا ،البتہ اب سائلہ کو چاہیئے کہ کاغذات وغیرہ میں حقیقی نانا ،نانی کے نام لکھوائے ۔
نوٹ! درجِ بالا جواب اس صورت میں قابلِ ہوگا کہ مذکور مکان واقعتاً سائلہ کی نانی کی ذاتی ملکیت ہو , لیکن محض ان کے نام ہو اور حقیقی ملکیت نانا کی ہو تو اس صورت میں یہ نانا کا ترکہ ہوگا جو ان کے ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا -
قال اللہ تعالی : ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَ مَوَالِيكُمْ وَ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَ لَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَ كَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (الاحزاب /5 )۔
و فی التفسیرالمظہری : فلا يثبت بالتبني شىء من احكام البنوة من الإرث و حرمة النكاح و غير ذلك- و فى الاية ردّ لما كانت العرب تقول من ان اللبيب الأريب له قلبان و الزوجة المظاهر منها تبين من زوجها و تحرم عليه كالام و دعى الرجل ابنه يرثه و يحرّم بالتبني ما يحرم بالنسب(7/284)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1