السلام علیکم
محترم دوبھائی اور دو بہنیں ہوں یعنی کل چار ورثاء ہو ں ،تو یہ سب وفات پا چکے ہو ں, انکی آگے اولادیں بھی ہوں ،تو وراثت کیسے تقسیم کی جائے گی ؟
واضح ہو کہ جب کوئی شخص وفات پا جائے ،تو اس وقت جو ورثاء زندہ ہو ں ان تمام شرعی ورثاء کا حق ترکہ سے متعلق ہوجاتا ہے ، چنانچہ اگر ورثاء میں سے تقسیم سے قبل کسی وارث کا انتقال ہوجائے تو اس کو ملنے والا شرعی حصہ , اس کے اپنے ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ،تاہم اگر شرعی تقسیم کا طریقہ کار معلوم کرنا ہو تو تمام ورثاء کی مکمل تفصیل لکھ کر بھیج دیں گے تو ان شاء اللہ غور وفکر کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کر دیا جائے گا ۔
قال اللہ تعالی : لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَ الْأَقْرَبُونَ وَ لِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَ الْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا (النساء /7)۔
و ایضاً قال تعالیٰ :يُ وصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَ إِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَ لِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ اھ (النساء /10)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1