السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! میرا نام اسد اللہ خان ہے ، ایک اہم معاملہ پر آپ کا فتوی درکار ہے ،عید الضحی کے بعد میری چھوٹی خالہ کے گھر دعوت تھی ،جس میں میری والدہ ، میں خود ، میری دو خالہ اور دونوں ماموں اور ان کی بیویاں یعنی میری دو ممانیاں اور ان سب کے بچے اور نانی بھی موجود تھی ، کچھ اور مہمان بھی تھے ، لیکن جب یہ واقعہ ہوا تو وہ اس سے پہلے جاچکے تھے ، تو ہوا کچھ یوں کہ میرے ماموں زاد بھائی جو نابالغ لیکن سمجھدار ہے , سے اس کی والدہ یعنی میری چھوٹی ممانی کچھ دین کے حوالے سے نصیحت کررہی تھی ، اس پر اچانک میرے بڑے ماموں نے کہا کہ چوروں اور لٹیروں جیسے نہیں ہونا ، جس پر قریب کے لوگ یعنی میری والدہ ، دونوں ممانیاں ، دونوں خالہ نے حیرانگی سے دیکھا اور پوچھا کہ کیا مطلب ؟ تو اس پر میرے بڑے ماموں جن کو سب عمران کہتے ہیں اور ان کا اصل نام زمیر الحسن ہے نے کہاکہ غزوہ بدر میں مسلمان ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا قافلہ لوٹنے گئے تھے ، اس پر میری والدہ اور بڑی خالہ اور میری بڑی ممانی نے ان کو ٹوکا ، جب یہ سب باتیں ہوئیں میں تین یا چار قدم کے فاصلہ پر تھا ، اور میں نے پوری بات غور سے سنی جو کہ بیان کردی ، اس کے علاوہ میری چھوٹی خالہ یہ کہتی ہیں کہ انہوں نے یہ سنا کہ جنگ بدر کے وقت کے مسلمانوں کویہ کہا ، تو اس واقع کے ذیل میں میرے چند سوال ہیں ، جو کہ درج ذیل ہیں ۔
1 : جنگ بدر کے وقت جو مسلمان تھے ان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام اول درجہ کے صحابہ کرام تھے ،اس لحاظ سے کیا گستاخی واقع ہوئی ہے ؟
2 : اگر گستاخی واقع ہوئی ہو تو اس کی تلافی کا کیا راستہ ہے ؟
3 : اگر اس راستہ کو زمیر الحسن اختیار کرنے سے انکاری ہو تو پھر تمام رشتہ داروں کو کیا کرنا چاہیئے؟
4 : اگر گستاخی واقعہ ہوئی ہے تو زمیر الحسن اسلام سے خارج ہوگئے ،اور ان کا نکاح باقی رہا یا نہیں ؟
واضح ہو کہ صحابہ کرام , انبیاء علیھم السلام کے بعد اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ لوگ ہیں ، ان کے بارے میں سوال میں مذکور الفاظ استعمال کرنا صریح گستاخی ہے ، جو کہ موجب فسق ہے ،تاہم یہ الفاظ کہنے سے سائل کا ماموں زمیر الحسن دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوا ، بلکہ اسے اپنے اس نامناسب الفاظ کہنے پر اللہ کے حضور صدق دل سے توبہ واستغفار اور اس سے بالکلیہ اجتناب لازم ہے ، البتہ سائل کے ماموں کو اس سلسلہ میں کوئی غلط فہمی ہو تو مقامی طور پر کسی مستند عالم دین کے ذریعہ اس کو دور کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے ، تاکہ یہ غلط فہمی دور ہوکر غلط نظریہ اپنانے سے حفاظت ہو سکے ۔
کما فی الفقہ الاکبر : و لا نذکر احدا من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الا بخیر اھ (ص:43)۔
و فی الشامیۃ : و لا تقبل شہادۃ من یظہر سب السلف ، و تقبل شہادۃ اھل الاھواء الا الخطابیۃ، و قال الزیلعی : او یظھر سب السلف یعنی الصالحین منھم و ھم الصحابۃ والتابعون لان ھذہ الاشیاء تدل علی قصور عقلہ ، و قلۃ مروءتہ اھ (4/237)۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1