اگر کسی شخص کے اولاد میں بہت سارے بیٹے اور بیٹیاں دونوں ہوں , تو وراثت میں سب ہی شریکِ ہونگے , پر اگر کوئی بہن اپنا حصہ خود نہ لے اور اپنے بھائی کو دینا چاہے یعنی مرحوم کی بیٹی اپنا حصہ مرحوم کے بیٹے کو دیدے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟ یا لڑکی کو اپنا حصہ لینا ضروری ہوگا ؟
تقسیمِ ترکہ سے قبل کسی وارث کا اپنا حصہ معاف کرنے وہ شرعاً حصہ معاف نہیں ہوتا اور نہ ہی زبانی کلامی کسی کو دینے اس کا بنتا ہے ،لہذا ترکہ تقسیم کرکے تمام ورثاء کے حوالہ کردیا جائے پھر ان میں سے جو بہن یا بھائی اپنا حصہ کسی دوسری بہن یا بھائی کو دینا چاہے تو دیدے ،بغیر تقسیم کے کسی وارث کا اپنا حصہ کسی دوسرے کو دینےسے وہ دوسرا اس کا مالک نہیں -بنتا
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1