میرے والد کے انتقال کو 28 سال، اور میری والدہ کے انتقال کو 2 سال ہو گئے ہیں،میرے بڑے بھائی نے والد کے کاروبار کو بڑھایا ،بلکہ میرے والد کا کاروبار سنبھالتے ہوئے دوسرا کاروبار بھی کیا ، اور وہ کاروبار ابھی بھی جاری ہے، اور اسی طرح میرے والد کی جائیداد میں بھی کاروبار کی طرح اضافہ کیا ہے ، ہم دس بہن اور بھائی میں سے پا نچ بہن ہیں ، اور بھائی نے اپنی شادی بھی خود اسی کاروبار سے کی ، میرا سوال یہ ہے کہ اب وراثت تقسیم ہوتی ہے ،تو وراثت صرف اسی چیز کی تقسیم ہوگئی ، جو میرے والد صاحب چھوڑ کر گئے ہیں ، یا جو میرے بھائی نے کاروبار میں , اور جائیداد میں اضافہ کیا ، اس میں تقسیم ہوگی ؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
سائلہ کے والدِ مرحوم نے بوقتِ انتقال ذاتی کاروبار کی صورت میں جو ترکہ چھوڑا تھا ، وہ اور اس کے بعد سائلہ کے بڑے بھائی نے سربراہ ہونے کی حیثیت سے اپنی محنت اور کوششوں سے مشترکہ مقاصد کے لئے اس کاروبار کو ترقی دے کر اس میں جو اضافہ کیا ، وہ سارا کا سارا مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا ، جو کہ تمام ورثا ء میں حسبِ حصص شرعیہ تقسیم ہوگا ، البتہ والدِ مرحوم کے ترکے کے علاوہ سائلہ کے بڑے بھائی نے اپنے ذاتی سرمایہ سے مستقل طور پر جو اپنا ذاتی کاروبار کیا ہے ، وہ سائلہ کے بڑے بھائی کی ملکیت ہے ، اس میں شرعاً اس کے دیگر بہن بھائیوں کا حصہ نہیں ۔
کما فی مجلة الاحکام : تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ . فَلِذَلِكَ إذَا شُرِطَ لِأَحَدِ الشُّرَكَاءِ حِصَّةٌ أَكْثَرُ مِنْ حِصَّتِهِ مِنْ لَبَنِ الْحَيَوَانِ الْمُشْتَرَكِ أَوْ نِتَاجِهِ لَا يَصِحُّ . (الْمَادَّةُ 1073)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1