السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : آج کل چمڑے کے موزے ایسے مل رہے ہیں کہ انہیں ایک زپ (Zip) کے ذریعہ سے قدم پر روکے رکھنا پڑتا ہے ، کیا اس قسم کے موزوں پر مسح کیا جا سکتا ہے؟ چونکہ موزے پر مسح کی بابت پڑھا تھا کہ موزے قدم پر بغیر باندے بندھے رہیں ، مذکور سوال میں موزے کی کیفیت یہ ہے کہ از خود قدم پر رک نہیں سکتے ، جب تک اس کو زپ کے ذریعہ روکا نہ جائے ، رہنمائی فرمائیں تو مہربانی ہوگی۔
واضح ہو کہ اگر پورے موزے چمڑے کے ہوں اگرچہ اس میں زپ لگی ہو، تب بھی اس پر دورانِ وضو مسح کرنا شرعاً درست ہے، جبکہ مذکور شرط کا تعلق چمڑے کے موزوں کیلئے نہیں ہے، لہذا مارکیٹ میں رائج چمڑے کے بنے موزوں پر دورانِ وضو مسح کرنا جائز ہے، اگرچہ اس میں زپ لگی ہو۔
کما فی رد المحتار: (قوله شرط مسحه) أي مسح الخف المفهوم من الخفين؛ (الیٰ قوله) (قوله ثلاثة أمور إلخ) زاد الشرنبلالي : لبسهما على طهارة و خلو كل منهما عن الخرق المانع و استمساكهما على الرجلين من غير شد و منعهما وصول الماء إلى الرجل و أن يبقى من القدم قدر ثلاثة أصابع. اهـ. (الیٰ قوله) (قوله فيجوز على الزربول) بفتح الزاي و سكون الراء (الیٰ قوله) (قوله لو مشدودا) ؛ لأن شده بمنزله الخياطة و هو مستمسك بنفسه بعد الشد كالخف المخيط بعضه ببعض فافهم اھ (1/261)۔