مفتی صاحب ہم 6 بھائی اور 2 بہنیں ہیں ، ہمارے والد صاحب فوت ہو گئے ہیں ، 4 بھائیوں نے زندگی میں زبردستی والد سے حصہ لیا اور اسٹامپ پیپر پہ لکھ کر دیا کہ اب والد کی کسی بھی قسم کی جائیداد میں ہمارا کوئی حصہ نہیں رہا ، جبکہ ہم 2 بھائیوں اور دو بہنوں نے نہیں لیا تھا ، والد نے اپنی زندگی میں سب کے سامنے کہا کہ سب کو چھ ، چھ مرلے اور بہنوں کو چار ، چار مرلے دے کر برابر کر دیا ، اب وہ والد کی وفات کے بعد پھر کہتے ہیں کہ ہمارا حصہ بھی بنتا ہے ، جبکہ وہ حلفیہ لکھ کر دے چکے ہیں ، اس بارے میں اسلام کیا کہتا ہے ؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل کے دو (2) بھائیوں نے اگرچہ والدِ مرحوم سے زندگی میں اس کی جائیداد میں سے حصہ لے لیا تھا اور باقاعدہ اسٹامپ پیپر پر والد صاحب کے ترکے سے دستبرداری کا اظہار کیا تھا ، لیکن اس کے باوجود بھی شرعاً وہ والد صاحب مرحوم کے ترکے میں اپنے حصوں سے محروم نہ ہوں گے ، بلکہ دیگر ورثاء کی طرح شرعاً وہ بھی والدِ مرحوم کے ترکے میں اپنے شرعی حصے کے بقدر حقدار ہوں گے ، تاہم سائل کے مذکور دو بھائیوں نے والد کی زندگی میں جو حصہ وصول کیا ہے وہ اگر انہیں ترکے میں سے ملنے والے حصے کے بقدر یا اس سے زیادہ ہو تو انہیں چاہیئے کہ اب والد مرحوم کے ترکے میں سے حصہ لینے کے بجائے اپنا حصہ اپنے بہن بھائیوں کے درمیان تقسیم کریں ۔
کما فی تنقیح الحامدیة : (سئل) فی احد الورثۃ اذا اشہد علیہ قبل قسمۃ الترکۃ المشتملۃ علی اعیان معلومۃ انہ ترک حقہ من الارث و اسقطہ و ابرأ ذمۃ بقیۃ الورثۃ منہا و یرید الآن مطالبۃ حقہ من الارث فہل لہ ذالک ؟ (الجواب) : الارث جبری لا یسقط بالاسقاط و قد افتی بہ العلامۃ الرملی کما ھو محرر فی فتاواہ من الاقرار نقلاً عن الفصولین و غیرہ فراجعہ ان شئت اھ (2/26) ۔
و فی الفتاویٰ الخیریة : سئل : فی رجل مات عن ام و اولاد و زوجة و ترک میراث فقبل قسمتہ اشھدت الام علی نفسھا انھا لاتستحق قبلھم حقاً و لا ارثاً و ابرأت ذمتھم و لم تتعرض لاسقاط ماتستحقہ من الترکۃ فھل ھذا الابراء یشتمل ماتستحق من الترکة قبل قسمتھا (اجاب) صرح علماءنا بان الارث لا یصح اسقاطہ اذ ھو جبری لا سیما فی الاعیان فقولھا لااستحق ارثا معارض بقولہ تعالیٰ (و لابویہ لکل واحد منھا السدس) فبطل بہ قولھا لا استحق ارثاً و فی الاشباة و النظائر لو قال وارث ترکت حقی لم یبطل حقہ و فی جامع الفصولین لوقال احد ورثتہ برئت من ترکة ابی یبرء الغرماء عن الدین بقدر حقہ لان ھذا ابراء عن الغرماء بقدر حقہ فیصح و لو کانت الترکة عینا لم یصح (الیٰ قولہ) و لو قال وارث ترکت حقی لم یبطل حقہ لان الملک بالترک فھو صریح بانھا ای الام لو تعرضت لاسقاط ماتستحقہ من الترکة لایبطل حقھا من الارث اھ (2/99)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1