کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والد مرحوم کے دو مکانات تھے ،ایک کراچی میں، دوسرا سوات میں ،2006 ء میں سوات والا مکان ہم نے 9 لاکھ میں بیچا ،اور کراچی والا مکان اس وقت اس کی قیمت بھی 9 لاکھ تھی،ہم چار بھائیوں(حسین ،فیض اللہ ،امان اللہ اور عزیزاللہ ) نے برابر تقسیم کیا ، مگر بہنوں کو ہم نے حصہ نہیں دیا،اب بہنوں کو ہم ان کا حصہ دینا چاہتے ہیں ،اس میں سے بڑے بھائی(حسین) کو ہم نے 5 لاکھ روپے دیے ،اس نے اورکچھ رقم ملا کرکراچی میں اپنا مکان خریدا ،اب کراچی کا مکان اور چار لاکھ روپے نقد والد کے ہم تین بھائیوں کے پاس ہیں،اب سوال یہ پوچھنا ہے کہ بڑے بھائی نے پانچ لاکھ روپے لیے اور ہم تین بھائی ہیں ، ہمارے پاس کراچی والا مکان ہے اور چار لاکھ روپے نقد ہیں ،پوچھنا یہ ہے کہ بڑے بھائی(حسین) کی جائیداد اور ہمارے حصہ میں سے 4 بہنوں کا کتنا حصہ بنتا ہے؟تاکہ ان کا جو شرعی حق ہے ، وہ ہم ان کو دے دیں۔
نوٹ: والد صاحب کے بعد ہمارے ایک بھائی (فیض اللہ ) کا انتقال ہوا ،ورثاء میں بیوہ،ایک بیٹا، چار بیٹیاں موجود ہیں،اس کے بعد 2011ء میں ہماری والدہ کا انتقال ہوا اور ہمارے نانا ،نانی کا ان سے پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا۔
سائل نے مزید بتایا کہ انہوں نے سوات والے اور کراچی والے مکان دونوں کی ویلیو معلوم کی تو دونوں کی قیمت 18 لاکھ بنی ،اس حساب سے اگر اس کو صرف بھائیوں پر تقسیم کرنا تھا تو ہر بھائی ساڑھے چار لاکھ کا حقدار تھا ،تو ہم نے سوات والا مکان فروخت کرکے بڑے بھائی (حسین ) کو میراث سے فارغ کرنے کیلئے اسکی باہمی رضا مندی سے پچاس ہزار زائد رقم کے ساتھ کل پانچ لاکھ دیکر فارغ کردیا ،واضح ہو کہ اس بارے میں بہنوں سے کوئی استفسار اور مشاورت نہیں کی گئی اور نہ ہی ابھی تک انکی طرف سے کوئی رد عمل سامنے آیا ،مذکور بھائی کے ساتھ مذکور معاہدہ محض زبانی کلامی ہوا تھا،جسکی باقاعدہ کوئی تحریر عمل میں نہیں لائی گئی تھی،اب ہم بہنوں کو حصہ دینا چاہتے ہیں، کراچی کا گھر جو ہمارے پا س موجود ہے ،اس میں سے حصہ دینا تو آسان ہے ،مگر ہمارا بنیادی سوال یہ ہے کہ جس بڑے بھائی کو ہم نے سوات والے گھر میں سے 5 لاکھ روپے دیے ہیں ،اس نے اس رقم پر مزید رقم ملا کر ایک مکان خریدا جسکی قیمت اب تقریباً چالیس لاکھ روپے ہے ،تو کیا بہنوں کو حصہ پانچ لاکھ کے حساب سے دیا جائے گایا چالیس لاکھ کے حساب سے ؟جبکہ ہمارا بڑا بھائی بھی حکمِ شرعی ماننے کو تیار ہے ،اور وہ چار لاکھ روپے بھی ہم نے کاروبار میں لگائے ، اسلئے اس میں بھی بڑھوتری آئی ،لہذا یہ بھی بتائیں کہ اسکی شرعی تقسیم ہوگی یا نہیں ؟ جو بھی جواب ہو عنایت فرما کر مشکور ہوں۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحتی نوٹ کے مطابق سائل (امان اللہ )اور اس کے بھائیوں (حسین ،فیض اللہ اور عزیزاللہ ) کا والد مرحوم کی جائیداد آپس میں تقسیم کرنا اور والدہ اور اپنی بہنوں کو ان کے حصۂ میراث سے محروم رکھنا شرعاً جائز نہیں تھا ،جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوئے ہیں ،جس پر انہیں توبہ واستغفار کرنا چاہیئے ،البتہ جس بھائی (حسین ) کو ترکہ کا مکان فروخت کرکے حاصل شدہ رقم میں سے والدہ اور بہنوں کی اجازت کے بغیر پانچ لاکھ روپے دیکر بقیہ ترکہ سے اس کو فارغ کردیا تھا اور بہنیں اب اس تقسیم پر راضی بھی ہوں تو مذکور تقسیم شرعاً درست شمار ہوگی ،چنانچہ مذکور رقم کے ساتھ مزید رقم ملا کر اس بھائی نے جو مکان اپنے لئے خریدا ہے تو وہ اس مکان کا تنہا مالک ہے ،اس میں دیگر بہن بھائیوں کو اب مطالبہ کا حق حاصل نہیں ،البتہ باقی ماندہ ترکہ یعنی کراچی والا مکان ، چار لاکھ رقم اور اس رقم سے اگر ورثاء کی رضا مندی سے کاروبار کرکے جو منافع حاصل ہوا ، وہ سب مرحوم والد کا ترکہ شمار ہوگا جس میں سے براہ راست مذکور بھائی کو تو حصہ نہیں ملے گا،البتہ مذکور بھائی کو والدہ کی میراث میں سے دیگر بیٹوں کی طرح شرعی حصہ ملے گا (جیسا کہ آگے آرہا ہے )
اس کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسؤلہ میں سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال ُ و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجبُ الادا قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائےاس کےکل28800 حصے بنائے جائیں ،جن میں سے مرحوم کے دو بیٹوں(امان اللہ اور عزیز اللہ) میں سے ہر ایک کو 5928 حصے،دوسرے بیٹے (حسین ) کو 888 حصے ،مرحوم کی بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 2964 حصے،مرحوم کے پوتے (مرحوم فیض اللہ کے بیٹے) کو 1190 حصے ،مرحوم کی پوتیوں (مرحوم فیض اللہ کی بیٹیوں) میں سے ہر ایک کو 595 حصے،جبکہ مرحوم کی بہو (فیض اللہ کی بیوہ) کو 630 حصے دیئے جائیں -
وفی مرقاۃ المفاتیح: عن سعید بن زید رضی اللہ عنہ: قال: قال رسول ﷺ :من اخذ شبرا من الارض ظلما فانہ یطوقہ یوم القیامۃ سبع ارضیین (6/141)-
کما فی درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام: إذا بذر بعض الورثة الحبوب المشتركة في الأراضي الموروثة بإذن الورثة الآخرين أو إذن وصيهم إذا كانوا صغارا فتكون الحاصلات مشتركة بينهم جميعا اھ (3/51)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1