ترجمہ :السلام علیکم : والد کی جائیداد اسلام کے مطابق کس طرح تقسیم کی جائے، والد کا انتقال ہو گیا ہے،اور اس کے ورثا ء یہ ہیں بیوہ ، ایک بیٹا ،تین بیٹیاں ،مجھے اپنے مرحوم والد کی جائیداد اس کی بیوہ ،ایک بیٹے،اور تین بیٹیوں کےدرمیان تقسیم کرنےکا فارمولاچاہیئے،جائیداد کی قیمت ایک لاکھ روپے ہے ۔
سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصول میراث کے مطابق مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا ،کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد ،سوناچاندی،زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الاداء تو وہ ادا کریں ،اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(3/1)حصے کی حد تک اس پرعمل کریں ،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل(40 ) حصے بنائے جائیں،جن میں سے (5)حصے بیوہ کو ،اور (14) حصےبیٹے کو ،اور ہر بیٹی کو (7)حصے دیے جائیں ۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0