وضو

چہرے پر زخموں کی صورت میں وضو کا حکم

فتوی نمبر :
67301
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

چہرے پر زخموں کی صورت میں وضو کا حکم

اگر کسی شخص کو منہ میں انفیکشن(زخم )ہو اور وہ پانی کو چھو نہیں سکتا یا متاثرہ جگہ کو دھو نہیں سکتا یا وضو کے دوران منہ اٹھا نہیں سکتا ،اس صورت میں ایسے شخص کیلئے وضو کے متعلق کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر منہ میں انفیکشن کی وجہ سے پانی کا استعمال مضر اور نقصان دہ ہو ،تو ایسی صورت میں کلی کئے اور مذکور جگہ کو دھوئے بغیر بھی وضوء کرنا درست ہوگا اور متاثرہ مقام کو دھونے کے بجائے اس پر صرف مسح کرنا کافی ہوگا، اور اگر مسح (گیلا ہاتھ پھیرنا)کرنا بھی زخم کےلئے نقصان دہ ہو تو مسح ترک کرنا بھی جائز ہے ،تاہم مذکور متاثرہ مقام کے علاوہ باقی اعضائے وضو کو دھونا لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار : [فروع] في أعضائه شقاق غسله إن قدر و إلا مسحه و إلا تركه و لو بيده ، و لا يقدر على الماء تيمم ، و لو قطع من المرفق غسل محل القطع (الی قولہ) (قوله : و إلا تركه) أي و إن لم يمسحه بأن لم يقدر على المسح تركه".( 1/102)۔
و فیہ ایضا : "(و يجوز) أي يصح مسحها (و لو شدت بلا وضوء) و غسل دفعا للحرج (و يترك) المسح كالغسل (إن ضر و إلا لا) يترك (و هو) أي مسحها (مشروط بالعجز عن مسح) نفس الموضع (فإن قدر عليه فلا مسح) عليها . و الحاصل لزوم غسل المحل و لو بماء حار ، فإن ضر مسحه ، فإن ضر مسحها ، فإن ضر سقط أصلاً .( 280/1)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
میر اٖفضل اکبر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67301کی تصدیق کریں
0     1380
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات