جناب مفتی صاحب السلام علیکم ! دارلعلوم کراچی
گذارش ہے کہ میری والدہ کے نام ایک مکان (120) گز کا ہے ،ہم چار بھائی اور تین بہنیں ہیں ، اور تفصیل یہ ہے آمنہ خاتون زوجہ عبدالعزیز ،عبد المجید اس کے ( 5 )بیٹے ،عبد الرشید مرحوم اس کے ( 3 ) بیٹے اور (2)بیٹیاں ،منور علی غیر شادی شدہ ، صغیر احمد کوئی اولاد نہیں، رہیسہ خاتون (مرحومہ)اس کے (4) بیٹے اور (5) بیٹیاں، انیسہ خاتون (مرحومہ)اس کے (4) بیٹے اور (1) بیٹی (مرحومہ)،عائشہ خاتون (مرحومہ) اس کے (2) بیٹے اور (2) بیٹیاں -
عرض خدمت یہ ہے کس کا کتنا وراثت میں حصہ ہوگا؟ شرعی رہنمائی کی جائے۔
واضح ہو کہ جب کوئی شخص وفات پاجائے تو اس وقت جو ورثاء موجود ہو ں , ان تمام شرعی ورثاء کا حق ترکہ کے ساتھ متعلق ہوجاتا ہے ،چنانچہ تقسیم سے قبل اگر کسی وارث کا انتقال ہوجائے تو اس کو ملنے والا شرعی حصہ اس کے اپنے ورثاء کے درمیان تقسیم ہوگا ۔
شرعی تقسیم کا طریقہ کا معلوم کرنا ہو تو تمام ورثاء کی مکمل تفصیل بالترتیب لکھ کر بھیج دیں تو اس پر غور و فکر کے بعد ان شاءاللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا ۔
قال اللہ تعالی : لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَ الْأَقْرَبُونَ وَ لِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَ الْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا (النساء /7)۔
و ایضا قال تعالی : يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَ إِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَ لِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ اھ(النساء /10)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1