ایک شخص فوت ہوا اس کی چار بیٹیاں ہیں، ایک بیوی ھے دو بھائی ہیں ایک بہن ہے ، ان میں وراثت کیسے تقسیم ہوگی۔
واضح ہو کہ مرحوم کا ترکہ اصول میراث کے مطابق مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا ،کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد ،سوناچاندی،زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں،اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں ،اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں ،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل (24) حصے بنائے جائیں جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو (3) حصے ،ہر بیٹی کو (4) حصے ،بھائیوں میں سے ہر ایک کو (2) حصے جبکہ بہن کو ایک حصہ دیا جائے ،جیساکہ ذیل کے نقشہ سے بھی واضح ہو رہا ہے ،مزید سہولت کیلئے فیصدی حصے بھی لکھ دیے گئے ہیں ۔
مسئلہ :24
میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بھائی بھائی بہن
3 16 5
4 4 4 4 2 2 1
12.5% 16.666% 16.666% 16.666% 16.666% 8.333% 8.333% 4.166%
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0