کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ والد ع مرحوم والدہ ص بیگم مرحومہ ،والدہ کا پہلے انتقال ہوگیا تھا، والد کا بعد میں ورثاء میں چار بیٹیاں چھ بیٹے، 24 لاکھ کا ہمارا مکان ہے، ہم سب بہن بھائیوں کا الگ الگ حصہ کیا بنے گا؟
سائلہ کے والد مرحوم کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال مذکور رقم سمیت جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ وجائیداد ، سونا ، چاندی ،زیورات، نقد رقم اور ہرقسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، اس میں سے بالترتیب حقوق متقدمہ علی المیراث (کفن دفن کے متوسط مصارف ، واجب الاداء قرضوں کی ادائیگی، اور بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) حصے کی حد تک جائز وصیت پر عمل ) کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل سولہ (16) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کو دو(2) حصے، جبکہ ہر بیٹی کو ایک حصہ دیا جائے
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1