السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! مفتی صاحب میرا آپ سے مختصر سوال یہ ہے کہ میرے دادا جان کی وفات کے وقت میرے ابا جان اور چاچا جی کا کاروبار الگ الگ تھا،چاچا جی کا کپڑے کا کاروبار تھا اور ابا جان مٹھائی کا کاروبار کرتے تھے، جو شروع دادا جان نے کیا تھا ،لیکن 1995 میں دادا جی نے اپنی حیات میں یہ مٹھائی کا چھوٹا سا اڈا جو کرائے کا تھا ،مکمل طور پر ابو کے حوالے کر دیا تھا، دادا جی کا انتقال 2004 میں ہوا ،اس وقت بھی ابا جی اور چاچا اپنا اپنا الگ کاروبار کرتے رہے، چاچا نے اپنے کاروبار میں والدین کے 2 پلاٹ فروخت کرکے اپنے کاروبار میں لگائے ،جس میں سے ایک پلاٹ دادا کی وفات کے بعد خفیہ طور پر فروخت کیا ،جبکہ اس میں سب کا حصہ بنتا تھا ، یہ سلسلہ کئی سال چلتا رہا ، کچھ برس بعد ابو کا کاروبار جو قرضے میں ہوا کرتا تھا ، وہ بفضلِ خدا ترقی پر آ گیا اور چاچا کا کاروبار جو عروج پر تھا، وہ بہت مقروض ہو گیا ،حتیٰ کہ ختم ہوگیا اس دوران ابو نے چاچا کے مقدمات کی رہائی اور قرضے والوں کو کئی لاکھ روپے ادا کیے، لیکن پھر بھی چاچا میرے ابا جان سے الگ رہے ، اب 20 سال بعد آکر جو ابا جی کا کرائے کا اڈا تھا ، وہ ابو نے ساری زندگی اکیلے محنت کرکے اپنے پیسوں سے ذاتی طور پر خرید لیا ، اب چاچا کا کہنا ہے کے میرا اس میں حصہ بنتا ہے ، کیونکہ یہ کام دادا نے شروع کیا تھا ، لیکن دادا نے تو اپنی حیات میں ہی وہ اڈا 1995 میں میرے ابو کے سپرد کردیا تھا، چاچا نے کئی مدارس سے اپنی بات بیان کرکے فتویٰ لیے ہوئے ہیں ، اب وہ ہمیں اسلحہ کی دھمکیاں دیتے ہیں اور آکر توڑ پھوڑ کرتے ہیں ،کہتے ہیں کہ میں نے فتویٰ لے لیا ہے، اب میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا، مہربانی فرما کر جواب دیں کہ ان کا کوئی حصہ بنتا ہے یا نہیں ؟ دوسری بات یہ کہ جو پلاٹ چاچا نے دادا کی وفات کے بعد اکیلے فروخت کیا اور ہمیں کچھ نہیں دیا ، اس کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے؟ جس مکان پر چاچا رہائش پذیر ہیں ،وہ بھی دادا کا ہے ۔ شکریہ جزاکم اللہ خیراً
سائل کا سوال اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ،اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کے دادا نے اپنی زندگی میں ہی مذکور کرایہ کی دکان کا کاروبار سائل کے والد کو باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ ان کے قبضہ و تصرف میں دیدیا تھا ( جیسا کہ سوال سے یہی معلوم ہورہا ہے) تو سائل کا والد ، کاروبار کا مالک بن چکا تھا ،اور اب سائل کا والد مذکور کاروبار اور اس کی تمام آمدنی کا تنہا مالک ہے،لہذا سائل کے چچا کا مذکور کاروبار میں حصہ داری کا مطالبہ کرنا اور مارنے کی دھمکی دینا شرعاً جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے ۔
جبکہ سائل کے چچا کا دیگر ورثاء کی رضا مندی کے بغیر ترکہ کا پلاٹ فروخت کر نا شرعاً جائز نہیں تھا ،جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوئے ہیں ،لہذا ان پر لازم ہے کہ جس وقت مذکور پلاٹ فروخت کیا تھا تو حاصل شدہ مذکور رقم ترکہ میں شامل کرکے تمام ورثاء کو ان کا شرعی حصہ دے ،نیز دادا مرحوم کا جتنا ترکہ اب موجود ہے ،وہ تمام ترکہ ورثاء کے درمیان جلد از جلد تقسیم کر دیا جائے ،تاکہ بعد میں مزید کسی قسم کی بدمزگی پیدا نہ ہو
کما فی مشکوة المصابیح : عن سعید بن زید رضی اللہ عنہ: قال: قال رسول ﷺ من اخذ شبراً من الارض ظلماً فانہ یطوقہ یوم القیامة سبع ارضیین (2/887)۔
و فی الدر المختار : کتاب الھبة : ھی تملیک العین مجاناً ای بلاعوض (الیٰ قولہ) و رکنہا ھو الایجاب و القبول الخ
و فی الشامیة : تحت (قولہ : هو الایجاب ) افاد ان التلفظ بالایجاب و القبول لایشترط ، بل تکفی القرائن الدالة علی التملیک اھ (5/687)۔
و فی الھندیة : و لایجوز لاحدھما ان یتصرف فی نصیب الآخر الا بامرہ اھ (2/301)۔
و فی الھدایة : و من غصب عبدا فاستغلہ فنقصتہ الغلة فعلیہ النقصان لما بینا و یتصدق بالغلة ، قال رضی اللہ عنہ : و ھذا عندھما ایضاً ،و عندہ لایتصدق بالغلة و لھما انہ حصل بسبب خبیث و ھو التصرف فی ملک الغیر و ما ھذا حالہ فسبیلہ التصدق لان الخبث لاجل المالک ،و لہذا لو ادی الیہ یباح لہ التناول فیزول الخبث بالاداء الیہ اھ (3/519)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1