السلام علیکم ! جس گھر میں ہم رہتے ہیں ،وہ میرے سسر کا ہے ،جو کہ اب حیات نہیں ہیں ،ان کی کوئی وصیت بھی نہیں ہے شادی سے پہلے میرے شوہر نے قرض لے کر پورشن بنایا،میرے شوہر نے کمیٹی ڈال کرمیرے لئے سونے کا زیور بنایاتھا،میری ساس اور نند نے مجھ سے کہا کہ شادی کے بعد زیور بیچ کر قرض ادا کرنا ہوگا ،نکاح کے وقت ماموں سسرنے زیور حق مہر میں لکھوا دیا شادی کے بعد شوہر نے زیور بیچ کر قرض ادا کردیا ،آج ساس گھر بیچ کر سب کو حصے دے رہی ہے ،میرا پورشن میرے حق مہر کے پیسوں کا ہے ،مہربانی فرما کر قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں،اس میں میرا کیا حق ہے ۔جزاک اللہ خیر۔
صورتِ مسؤلہ میں سائلہ کے خاوند نے مذکور گھر پر پورشن اگر والد مرحو م کی اجازت سے اپنے لئے بنایا ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کا خاوند مذکور پورشن کا مالک بن چکاہے ،لہذا اب مذکور پورشن مرحوم کا ترکہ شمار نہ ہوگا ،بلکہ اس پورشن کے علاوہ بقیہ مکان مرحوم سسر کا ترکہ شمار ہو کر تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ،البتہ سائلہ نے شادی کے بعد حق مہر کا زیور اگر اپنے شوہر کو بطور قرض دیا ہو یا شوہر سے واپس لینے کی وضاحت کے ساتھ دیا ہو،تو خاوند پر مذکور زیور کی مقدار زیور یا آج کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے اس کی رقم دینا لازم ہے ، تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو سوال دوبارہ وضاحت کے ساتھ لکھ کر ای میل کر دیں ، اس پر غوروفکر کے بعد ان شاءاللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
کما فی الدر المختار: فصل في القرض (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، و شرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه و هو أخصر من قوله (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض و نحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة و هبة.
و فی الشامیة : (قوله عقد مخصوص) الظاهر أن المراد عقد بلفظ مخصوص، لأن العقد لفظ، و لذا قال أي بلفظ القرض و نحوه أي كالدين و كقوله: أعطني درهما لأرد عليك مثله (الیٰ قوله) (قوله خرج نحو وديعة و هبة) أي خرج وديعة و هبة ونحوهما كعارية وصدقة، لأنه يجب رد عين الوديعة و العارية و لا يجب رد شيء في الهبة و الصدقة اھ (5/161)۔
و فی تنقیح الحامدیة : (سُئِلَ) فِي رَجُلٍ بَنَى بِمَالِهِ لِنَفْسِهِ قَصْرًا فِي دَارِ أَبِيهِ بِإِذْنِهِ ثُمَّ مَاتَ أَبُوهُ عَنْهُ وَ عَنْ وَرَثَةٍ غَيْرِهِ فَهَلْ يَكُونُ الْقَصْرُ لِبَانِيهِ ؟ (الْجَوَابُ) : نَعَمْ كَمَا صَرَّحَ بِذَلِكَ فِي حَاشِيَةِ الْأَشْبَاهِ مِنْ الْوَقْفِ عِنْدَ قَوْلِهِ كُلُّ مَنْ بَنَى فِي أَرْضِ غَيْرِهِ بِأَمْرِهِ فَهُوَ لِمَالِكِهَا إلَخْ وَ مَسْأَلَةُ الْعِمَارَةِ كَثِيرَةٌ ذَكَرَهَا فِي الْفُصُولِ الْعِمَادِيَّةِ وَ الْفُصُولَيْنِ وَ غَيْرِهَا اھ (1/81)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1