السلام علیکم! قضائےعمری کےحوالے سےعرض کرنا ہے، اگر کوئی شخص حساب لگالے کہ میری 10 سال کی نماز قضاہے، اب اگر وہ جلد از جلد ادا کرنا چاہتا ہے تو کیا وہ روزانہ زیادہ سے زیادہ پڑھنے کےلئے نماز مختصر کرسکتاہے؟ مثلا ثناء کا نہ پڑھنا، رکوع و سجود میں تسبیحات کا ایک ایک دفعہ ہونا، نیز کیا تکبیر تحریمہ کھڑے ہوکرپڑھنے کے بعد پوری نماز بیٹھ کرمکمل کرسکتا ہے؟ وضاحت فرمائیں۔
واضح ہو کہ نماز میں ثناء اور رکوع و سجود میں کم از کم تین بار تسبیحات پڑھنا مسنون عمل ہے، بلا وجہ ان سنن کو ترک کرنا اور اس کی عادت بنالینا شرعاً جائز نہیں، بلکہ ثواب سے محرومی اور گناہ ہے، لہذامذکورشخص کے لئے قضاءنمازوں کی ادائیگی میں ان سنتوں کو ترک کرنا درست نہیں، بلکہ نماز تمام سنن و مستحبات کی رعایت کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
جبکہ فرض اور واجب نماز میں قیام (کھڑا ہونا) فرض ہے، بلا عذر فرض اور واجب نماز بیٹھ کر پڑھنا شرعاً جائزنہیں ہے، اور اس سے نماز بھی درست ادانہ ہوگی، بلکہ اس نماز کا اعادہ لازم ہوگا، لہذا مذکورشخص کےلئے بلاعذر قضاءنمازیں بیٹھ کرپڑھناشرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في مشكاة المصابيح: عن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " إذا ركع أحدكم فقال في ركوعه سبحان ربي العظيم ثلاث مرات فقد تم ركوعه وذلك أدناه و إذا سجد فقال في سجوده سبحان ربي الأعلى ثلاث مرات فقد ثم سجوده وذلك أدناءہ ". رواه الترمذي وأبو داود (277/1)۔
وفي الهداية في شرح بداية المبتدي: ثم تسبيحات الركوع والسجود سنة لأن النص تناولهما دون تسبيحاتهما فلا يزاد علی النص۔ (12/1)۔
وفي الفتاوى الهندية: ويقول في ركوعه سبحان ربي العظيم ثلاثا وذلك أدناءہ فلو ترك التسبيح أصلا أو أتى به مرة واحدة يجوز ویکرہ۔(74/1)۔
وفيها أيضاً: (سننها) رفع اليدين للتحريمة، ونشر أصابعه، وجهرالإمام بالتكبير، والثناء۔(72/1)۔
وفيها أيضاً: (ومنها القيام) وهو فرض في صلاة الفرض والوتر. هكذا في الجوهرة النيرة والسراج الوهاج۔(69/1)۔
دورانِ نماز قرأت میں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنی بالکل بگڑ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؟
یونیکوڈ مفسدات نماز 0