کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا 120 گز کا پلاٹ والدہ کے نام پر ہے،جن کا دو سال پہلے انتقال ہوچکا ہے،ہم بہن بھائی کو حصہ چاہیئے ،جس میں 2 بھائی 2 بہن اور والد صاحب حصہ دار ہیں،آپ مجھے تفصیل سے لکھ کر بتا دیں کہ والد صاحب , 2 بھائی ، 2 بہنوں کا حصہ کیا بنے گا؟ کیونکہ مجھ سے اس موضوع پر فتویٰ مانگا گیا ہے
نوٹ : مذکور مکان والدہ نے خریدا تھا،مکان کی اس وقت قیمت 49000 ہزار تھی،جس میں 13 ہزار والد صاحب نے ملائے اور 36000 والدہ نے ہمارے ماموں سے قرض لیا ،اس قرض میں سے 22000 ہزار روپے ایک بیٹے نے ادا کیے , پھر وراثت کی بات چلنے پر اس نے ادائیگی روک دی کہ سب ورثاء مل کر یہ قرض ادا کریں،جس وقت مکان خریدا تھا اس میں کچھ تعمیر باقی تھی جو باپ بیٹوں نے ملکر کی ہے،خریدتے وقت یہ مکان والدہ کے نام لیز کروا دیا تھا اور وہی اس کی مالک شمار ہوتی تھی،والدہ اپنی حیات میں مذکور مکان میں خرید وفروخت کے حوالے سے مکمل تصرف کا حق رکھتی تھی ،مزید یہ کہ والد صاحب اور بیٹے نے مذکور رقم والدہ کی زندگی ہی میں بغیر کسی قرض یا شرکت کی صراحت کے بغیر دیے تھے،اور مذکور تعمیر بھی والدہ کی زندگی ہی میں ہوئی تھی اس میں بھی آپس میں کوئی معاہدہ وغیرہ نہیں ہوا تھا۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحتی نوٹ کے مطابق اگر مذکور مکان کی خریداری سائل کی والدہ مرحومہ نے کی تھی جس میں تیرہ ہزار روپے سائل کے والد نے اپنی طرف سے بطور تبرع دیے تھے تو مذکور مکان صرف سائل کی والدہ مرحومہ کی ملکیت ہے اور مذکور مکان کی تعمیر کرتے وقت اگر سائل کے والد اور بڑے بھائی نے قرض وغیرہ کی صراحت کیے بغیر رقم خرچ کی تھی تو اب وہ تعمیر بھی ترکہ شمار ہو کر پورا مکان ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ،جبکہ والدہ مرحومہ کا قرضہ اگر سائل نے اپنی طرف سے بطورِ تبرع ادا کیا تھا تو اب تقسیم سے قبل مذکور رقم منہا کرنا جائز نہیں ،البتہ باقی ماندہ قرضہ یعنی چودہ ہزار روپے تقسیم سے قبل منہا کیے جاسکتے ہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسؤلہ میں سائل کی والدہ مرحومہ کا ترکہ اصولِ میراث کےمطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال مذکور مکان سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے ، مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف شوہر پر لازم ہیں ،چنانچہ اگر یہ اخراجات شوہر نے یا کسی اور نے بطورِ احسان ادا کر دیے ہوں تو پھر یہ اخراجات ترکہ سے منہا نہ ہوں گے ،اس کے بعد دیکھیں اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل24 حصے بنائے جائیں جن میں سے مرحومہ کے شوہراور مرحومہ کے دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو 6 حصے ،جبکہ مرحومہ کی دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 3 حصے دیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1