السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جناب مفتی صاحب: ایک گھریلو مسئلے میں آپ کی مدد درکار ہے، ہم چار بہنیں، اور دو بھائی ہیں، جس میں سے ایک بہن کا انتقال ہوچکا ہے، باقی ہم تین بہنیں اور دو بھائی ہیں، ہمارے والد مرحوم وراثت میں ایک مکان بمع دکان چھوڑ کے گئے ہیں، جو اب دو بھائیوں کے زیر استعمال ہیں، اب میں پریشان ہوں، اور مالی طور پر گھر میں بہت تنگی ہے، لہذا اس مسئلے میں تھوڑی رہنمائی فرمائیں کہ میں اس وراثت میں اپنا حق مانگ سکتی ہوں؟ کیا میرے بھائی ہم بہنوں کو ہمار حصہ دینے کے پابند ہیں؟ جو میرے بھائیوں نے والد صاحب کی موجودگی میں کاروبار سے ہی لیا تھا، کیا اس میں میرا حق ہے؟
مزیدوضاحت ہے کہ والد مرحوم کے انتقال کے وقت ورثاء میں بیوہ ، چار بیٹیاں اور دو بیٹے موجود تھے، اس کے بعد بیٹی مسماۃ نسرین کا انتقال ہوگیا، وہ غیر شادی شدہ تھی ، اس کے بعد پھر بیوہ کا انتقال ہوا، ورثاء میں تین بیٹیاں موجود ہیں ، والد مرحوم کا ترکہ مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح کیا جائیگا؟
نوٹ: سائلہ نے بتایا کہ کاروبار والد صاحب کا ہے، بیٹوں کا الگ سے کوئی کاروبار نہیں تھا، جبکہ دوسرا پلاٹ بھی اس کاروبار سے ہی خریدا گیا ہے، البتہ جب یہ پلاٹ خریدا تھا، اس وقت والد صاحب بیمار تھے، اس لیے ان سے پوچھنے وغیرہ کی نوبت نہیں آئی ۔
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائلہ کے بھائیوں کا کوئی مستقل کاروبار نہ ہو، بلکہ سائلہ کے بھائی بطو ر معاون والد صاحب مرحوم کے ساتھ اس کے کاروبار میں شریک کار تھے، تو ایسی صورت میں مذکور کاروبار کی آمدنی سے جو پلاٹ خریدا گیا ہے، وہ بھی شرعاً سائلہ کے والد مرحوم کی ملکیت شمار ہوگا، چنانچہ اب مرحوم کی وفات کے بعد مذکور پلاٹ بھی دیگر ترکے کی طرح مرحوم کے تمام ورثاء میں حسب حصص شرعیہ تقسیم ہوگا، جبکہ سائلہ کے والد مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ چھوڑا ہے، وہ سارا کا سارا مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا، جس میں مرحوم کے بیٹوں کی طرح سائلہ اور اس کی بہنیں بھی شرعاً حصہ دار ہیں، لہذا سائلہ کے لیے اپنے والد مرحوم کے ترکے میں سے اپنے حصے کا مطالبہ کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے والد مرحوم کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا، کہ مرحوم نے بوقت انتقال مذکو مکان اور پلاٹ سمیت جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد ،سونا ،چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، ا س میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) حصے کی حد تک اس پر عمل کر کے اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل دو ہزار چھ سو اٹھاسی(2688) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کو سات سو اڑسٹھ(768) حصے، جبکہ ہر بیٹی کو تین سو چوراسی (384) حصے دیے جائیں۔
کما فی مجلة الاحکام: تقسیم حاصلات الاموال المشترکة فی شرکة الملک بین أصحابھم بنسبة حصصھم، بذالک اذا شرط لأحد الشرکاء حصة أکثر من حصتہ من لبن الحیوان المشترک أو نتاجہ لایصح (تقسیم حاصلات الأموال المشترک فی شرکة الملک بین أصحابھا بنسبة حصصھم الخ (المادۃ 1073)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1