اسلام عليكم ورحمة الله وبركاتہ !میرا نام محمد رفیق ولد محمد بشیر ہے، ناظم آباد نمبر 5 پاپوش نگر علاقہ اور محلہ روئیدا دنگر کا رہائشی ہوں،ہم (5) پانچ بھائی اور دو بہنیں ہیں ، والدہ صاحب نے 1970ء میں روئیدا دنگر میں (52) گز کا ایک مکان خریدا تھا، اس مکان کی پہلی تعمیر 1990 ء میں، میں نے (رفیق) نے اپنے خرچے پر کروائی تھی، پھر دوسری تعمیر 1999ء میں مجھ سے چھوٹے بھائی وحید نے اپنے خرچے پر کی تھی ، والد محترم کا انتقال 2004 میں ہوا تھا ، اس مکان کو فروخت کرنا چاہ رہے ہیں ، اس سلسلے میں تقسیم کی کیا صورت ہوگی رہنمائی فرما دیجئے،
1999ء میں والد صاحب نے اپنی وراثت میں سے کچھ حصہ فروخت کر کے ایک مکان خریدا، والد صاحب کا انتقال 2004 میں ہوا تھا ،چھوٹے بھائی وحید نے اس مکان کی تعمیر 2023 میں اپنے خرچے پر کی تھی اور اس مکان مںو رہائش اختیار کرلی تھی ،2018 میں یہ مکان کرایہ پر دے دیا ہے،اس کرایہ میں سے بوچےں اور بھائی کو حصہ نہیں ملتا ،اس مکان کو فروخت کرنا ہو یا کرایہ میں سے حصہ لینا ہو تو کیا صورت ہو سکتی ہے اس سلسلے میں رہنمائی فرما دیں، اس مکان کے نیچے ایک عدد دکان اور تین منزلہ مکان ہے ۔
والد محترم کا انتقال 2004 میں ہوا تھا والد کے طرف سے وراثت کا مکان جو کہ لالہ موسیٰ پنجاب میں تھا وہ مکان فروخت کر دیا گیا تھا ،2017 میں اس مکان کی قیمت (3500000) روپے بیتپ تھی ، (5) لاکھ روپے کا عذی کاروائی میں لگ گےہ باقی کی تمام رقم والدہ کے پاس آئی تھی ،اس رقم میں سے چھوٹے بھائی شفیق نے اپنے حصہ کی رقم لے لی، باقی کے تمام پیسے تیسرے نمبر والے چھوٹے بھائی وحید نے کاروبار میں لگا دیئے اور سب بہن بھائیوں سے کان کہ دو سال میں مکان خرید کر دوں گا ، اب جب رقم یا مکان کا تقاضہ کیا گیا تو وحید کا کہنا ہے کہ کاروبار میں نقصان ہو گیا، لہذا رقم ڈوب گئی، جبکہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ ایک مکان اس کے قبضے میں ہے جو کہ والد کی طرف سے وراثت کا ہے اس کا کرایہ بھی وحید ہی لیتا ہے، اس رقم کے بارے میں رہنمائی فرما دیں کیا صورت ہو سکتی ہے ۔
میرا نام محمد رفیق ولد محمد بشیرہے ناظم آباد کارہائشی ہوں،میرے چھوٹے بھائی شفیق کی شادی 1990 میں ہوئی، شادی کے وقت زیور کی ضرورت تھی اور پیسے نہیں تھے، والد صاحب نے مشورہ کیا کہ وراثت میں سے کچھ زمین بیچ دی جائے، میں نے وہ زمین بیچنے سے منع کر دیا اور اپنی بیوی کا زیور( 4) تولہ ان کو دے دیا یہ کہہ کر کہ جب مجھے اپنے بچوں کے لئے چاہیئے ہونگے تو واپس لوٹادیں سب راضی ہوگئے ، 2016 میں میرے بیٹے کی شادی پر مجھے ضرورت ہوئی تو مجھے ڈیڑھ تولہ سونا دیا گیا، باقی کا سونا سب سے چھوٹے بھائی عزیر کو دیا گیا عزیر کی شادی پر، اب والدہ محترمہ کا انتقال ہو چکا ہے، عزیر سے سونے کا تقاضہ کیا گیا تو اس کا کہنا ہے کہ یہ والدہ کی طرف سے مجھے دیا گیا ہے اور وہ دینے سے انکاری ہے اپنی ملکیت کہتا ہے، اس سلسلے میں رہنمائی فرما دیں کہ میں اپنا یہ سونا لینے کا حق دار ہوں کہ نہیں؟
نوٹ :مذکور چار تولہ سونا محمد بشیر نے والد صاحب کو دیتے وقت کہا تھا کہ مجھے بعد میں دیدینا ،جس میں سے بھائیوں نے ان کو ڈیڑھ تولہ دیدیا باقی کا ڈھائی تولہ نہیں دے رہیں ۔
صورتِ مسئولہ میں سائل رفیق اور اس کے بھائی وحید نے والد صاحب کی حیات میں روئیداد نگر میں ان کے مکان پر جو تعمیر کی ہے اگر یہ تعمیرات ان مذکور بھائیوں نے والد کی اجازت سے اپنی ریائش کیلئے کی ہو مشترکہ رہائش کے طور پر نہ کی ہو تو ایسی صورت میں یہ تعمیرات ان کی ذاتی ملکیت ہیں ،لہٰذا اب اگر ورثاء مذکور گھر کے فروخت کرنے پر راضی ہوں تو مذکور دونوں تعمیرات اور بقیہ مکان کی الگ الگ قیمت لگائی جائے گی ،چنانچہ تعمیرات کی مد میں جتنی رقم آئے وہ دونوں بھائیوں میں اسی حساب سے تقسیم کردی جائے اور بقیہ رقم مرحوم والد کا ترکہ شمار ہوکر تمام ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم ہوگی ۔
جبکہ سائل کے بھائی مسمیٰ وحید نے 2013 میں اگر ورثاء کی اجازت سے مذکور مکان پر اپنی رہائش کیلئے تعمیر کی تھی سب ورثاء کیلئے نہیں کی تھی تو مذکور تعمیر مسمیٰ وحید ہی کی ملکیت ہے ،اور اس مکان سے حاصل ہونے والا کرایہ بھی اس کی ملکیت ہوگا،دیگر ورثاء کا اس میں حصہ داری کا دعوی کرنا شرعاً درست نہیں ،لیکن اگر ورثاء تقسیم کا مطالبہ کریں تو مکان اور تعمیر کی الگ الگ قیمت لگائی جائیگی ،چنانچہ مذکور تعمیر کے مقابلہ میں جتنی رقم آئے تو وہ رقم مسمیٰ وحید کی ملکیت ہوگی ،البتہ اس تعمیر کے علاوہ بقیہ رقم مرحوم والد کا ترکہ شمار ہوکر ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم ہوگی ۔
جبکہ ترکہ کا تیسرا مکان فروخت کرکے حاصل ہونے والی رقم اگر مسمیٰ وحید نے ورثاء کی اجازت کے بغیر کاروبار میں لگائی تھی تو اس کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں تھا ،البتہ اب ورثاء کے مطالبے پر مسمیٰ وحید پر اتنی رقم ورثاء کو لو ٹانا لازم ہے ،کاروبار میں نقصان ہونے کی وجہ سے وہ اس رقم سے بری الذمہ نہیں ہوگا ۔
نیز سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق جب سائل نے والد مرحوم کو چار تولہ سونا واپسی کی صراحت کرکے دیا تھا تو یہ سونا والد کے ذمہ قرض ہے ، لہٰذا ترکہ کی تقسیم سے قبل بقیہ ماندہ قرض کی ادائیگی سائل کو کی جائے گی ،اس کے بعد ترکہ ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم ہوگا .
کما فی درر الحکام :الاحتمال الثالث - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بإذن الشريك الآخر أي أن تكون التعميرات الواقعة للمعمر وملكا له فتكون التعميرات المذكورة ملكا للمعمر ويكون الشريك الآخر قد أعار حصته لشريكه. ا(الی قولہ)الاحتمال الرابع - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بدون إذن شريكه على أن يكون ما عمره لنفسه فتكون التعميرات المذكورة ملكا له وللشريك الذي بنى وأنشأ أن يرفع ما عمره من المرمة الغير المستهلكة. ما لم يكن رفعها مضرا بالأرض ففي هذا الحال يمنع من رفعها.اھ(3/315)۔
وکما فی تنقیح الحامدیۃ :(سئل) في رجل بنى بماله لنفسه قصرا في دار أبيه بإذنه ثم مات أبوه عنه وعن ورثة غيره فهل يكون القصر لبانيه ويكون كالمستعير؟(الجواب) : نعم كما صرح بذلك في حاشية الأشباه من الوقف عند قوله
كل من بنى في أرض غيره بأمره فهو لمالكها إلخ ومسألة العمارة كثيرة ذكرها في الفصول العمادية والفصولين وغيرها وعبارة المحشي بعد قوله ويكون كالمستعير فيكلف قلعه متى شاء.اھ(2/81)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1