السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
ہم 6 بھائی اور5 بہنیں ہیں ، ہمارے والد صاحب نے کچی آبادی میں مکان بنایا تھا ،یہ گھر چونکہ کچی آبادی میں ہے اس لئے اسکے کوئی کاغذات نہیں ہوتے ،والد صاحب کا انتقال 1989میں ہوگیا ،والد صاحب کے انتقال کے وقت میری عمر تقریباً 16ً سال تھی، جبکہ مجھ سے چھوٹے 5 بھائی اور5 بہنیں ہیں ، تقریباً یہ سب اس وقت نابالغ تھے ،2008 میں ہماری بڑی بہن کا انتقال ہوا جنکی اس وقت ایک بیٹی تھی،2015 میں ہماری والدہ کا بھی انتقال ہوگیا ،جس بڑی بہن کا انتقال 2008 میں ہوا تھا ان کے شوہر کا بھی 2014 میں انتقال ہوگیا ،میں 2007 سے علیحدہ کرائے کے مکان میں رہتا ہوں ،البتہ 2011 سے 2014 تک اس ہی گھر میں رہائش اختیار کر لی تھی ،پھر دوبارہ 2014 سے کرائے کے مکان میں رہ رہا ہوں ،والد صاحب کے چھوڑے ہوئے اس مکان میں 4 بھائی بمعہ اہل وعیال رہ رہے ہیں ،الحمد للہ تمام بھائی و بہنیں شادی شدہ ہیں ،ایک بھائی نے ہم سب سے ملنا جلنا چھوڑا ہوا ہے ،میں نے پچھلے اتنے عرصہ میں کئی مرتبہ کوشش کی اور ان سے ملاقات کرکے انکی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کی ،لیکن وہ کوئی بھی بات کسی طریقے سے ماننے کیلئے تیار نہیں ،ان کی اپنی کوئی اولاد بھی نہیں ،لیکن میں نے جب بھی ان کے گھر جاکر ان کو منانے کی کوشش کی ہے وہ گالیاں دے کر گھر سے نکال دیتے ہیں ،وہ کسی بھی صورت کوئی بھی بات سننے کو تیار نہیں ان کی زبان پر بس ایک ہی جملہ رہتا ہے کہ تم سب میرے لئے مر چکے ہو ،یہاں تک کہ جب انکو حدیث کے حوالے سے قطع تعلقی کی وعید سنائی جائے تو وہ سننے کے بعد کچھ بات نہیں کرتے ،بس کہتے ہیں اللہ کیا کہتا ہے مجھےسب پتا ہے بس تم یہاں سے دفع ہوجاؤ ورنہ دھکے دے کر اور مار کر گھر سے نکال دوں گا، اب وہ والد صاحب کا چھوڑا ہوا گھر جو 4 بھائیوں کے استعمال میں ہے جب میں اس کو بیچ کر تقسیم وراثت کی بات کرتا ہوں تو ایک بڑے بھائی جنہوں نے سب سے زیادہ وقت اس گھر میں گزارا ہے وہ کہتے ہیں کہ تم کیا چاہتے ہو ہم سب روڈ پر آجائیں ؟ کیونکہ یہ گھر معمولی قیمت کا ہے اس لئے تقسیمِ وراثت میں ہر ایک کے حصہ میں معمولی سی رقم آئے گی،ذرائعِ آمدنی سب بھائیوں کے محدود ہیں ،اس لئے انہیں اور دوسرے بھائیوں کو بھی یہ گمان ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں کرایہ پر رہنا انتہائی مشکل ہے ۔
معلوم یہ کرنا ہے کہ جو بھائی اس مکان کو استعمال کررہے ہیں ،آیا ان کا اس مکان کو استعمال کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ اگر میں اور ایک چھوٹا بھائی مکان بیچ کر تقسیمِ وراثت کی بات کرتے ہیں تو ایک بڑا بھائی اس مکان کو بیچنے سے منع کرتے ہیں ،حالانکہ خود انکے پاس یا اور کسی بھائی کے پاس اتنی رقم نہیں کہ کسی ایک کو بھی حصہ دے سکیں ،لیکن بظاہر جیسا اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ عام طور سے ہمارے قرب و جوار کے لوگ تقسیمِ وراثت کو اہمیت نہیں دیتے ،بالکل اسی طرح بھائی بھی ان ہی لوگوں کی مثال دیتے ہیں کہ فلاں کو دیکھو وہ بھی اپنے والد کے چھوڑے ہوئے مکان وغیرہ کو تقسیم نہیں کرتے، تو ہم کیوں کریں ،جو بڑا بھائی سب سے تعلقات ختم کرکے الگ رہتا ہے اور وہ کسی کی بھی کوئی بھی بات سننے کو تیار نہیں تو اس بھائی کے حصہ کا کیا معاملہ کیا جائے ؟ اگر یہ گھر بیچ کر سب ہی ورثاء کو حصہ دینا ضروری ہے تو 6 بھائی اور 4 بہنوں کے حصوں کی تفصیل سمجھا دیں اور جس بہن کا انتقال والدہ کے انتقال سے پہلے ہوا تھا کیا ان کا بھی حصہ ہوگا اور کیا وہ حصہ انکی اکلوتی بیٹی کو دیا جائے گا؟ایک بہن نے بتایا کہ بڑے بھائی جنہوں نے سب سے زیادہ اس گھر کو استعمال کیا ہے انکا کہنا ہے کہ اگر یہ گھر بیچ کر سب کوحصہ دینا پڑے تو پھر میں اسکے بعد کسی سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گا ،تو معلوم یہ کرنا ہے کہ تقسیمِ وراثت کی صورت میں اگر کوئی بھائی قطع تعلقی کرتا ہے تو کیا سارے بھائی اور بہنیں قطع تعلقی کے ذمہ دار ہونگے ؟
نوٹ:سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ مرحوم کے داماد کے انتقال کے وقت اس کے ورثاء میں ایک بیٹی ،دوسگی بہنیں ،ایک بھائی بہن( ماں شریک) موجود تھے ۔
واضح ہوکہ مرحوم کے انتقال کے بعد بعض ورثاء کا کل ترکہ پر قابض ہوکر بقیہ ورثاء کو مطالبہ کے باوجود ان کے حصۂ میراث سے محروم رکھنا سراسر ظلم اور غصب پر مبنی عمل ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہے ،جس کے متعلق احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ،چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ " جو شخص کسی کی ایک بالشت زمین غصب کرے،قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق بنا کر اس شخص کے گلے میں ڈالا جائے گا،لہذ صورتِ مسؤلہ میں جو ورثاء تقسیمِ ترکہ سے انکار کررہے ہیں انہیں چاہیئے کہ مرحوم کا تمام ترکہ بمع مذکور گھر کے آپس میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرکے مؤاخذۂ اخروی سے سبکدوشی کی فکر کریں ،جبکہ ترکہ تمام ورثاء کے درمیان تقسیم کرنا حکمِ خداوندی ہے اور حکمِ خداوندی پر عمل کرنے کی وجہ سے اگر کوئی بھائی قطع تعلقی اختیار کرتا ہے تو اس کا گناہ صرف اسی بھائی پر ہوگا ،دیگر ورثاء گناہ گار نہیں ہوں گے ،تاہم پھر بھی بقیہ ورثاء کو چاہیئے کہ اس بھائی کو راضی کرنےاور اس کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں ۔
اس کے بعد واضح ہوکہ صورتِ مسؤلہ میں سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور مکان سمیت جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجبُ الادا قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائےاس کےکل چھبیس ہزار ایک سوبارہ( 26112 )حصے بنائے جائیں ،جن میں سے مرحوم کے چھ بیٹوں میں سے ہر ایک کو تین ہزار ایک سو اڑتیس( 3138 ) حصے ،مرحوم کی چاروں بیٹیوں میں سے ہر ایک کوایک ہزار پانچ سو انہتر (1569) حصے،مرحوم کی نواسی کوآٹھ سو چالیس( 840 )حصے ،جبکہ مرحوم کے داماد کی دونوں سگی بہنوں میں سے ہر ایک کو چوراسی (84) حصے دیے جائیں -
کمافی سنن الترمذی: باب ما جاء لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق ،عن ابن عمر رضی اللہ عنہ ۔قال : قال رسول اللہ ۔صلی اللہ علیہ وسلم۔السمع والطاعۃ علی المرء المسلم فیما احب وکرہ مالم یؤمر بمعصیۃ فان امر بمعصیۃ فلا سمع علیہ ولا طاعۃ (1/300)۔
و فی مشکاۃ المصابیح: عن سعید بن زید قال : قال رسول اللہ ۔صلی اللہ علیہ وسلم۔ من اخذ شبرا من الارض ظلماً فانہ یطوقہ یوم القیامۃ من سبع ارضین
( 2/887)۔
و فیہ ایضاً : عن انس ۔رضی اللہ عنہ۔ قال : قال رسول اللہ ۔صلی اللہ علیہ وسلم من قطع میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ۔ رواہ ابن جاجہ (2/926)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1