احکام وراثت

متروکہ گھر فروخت کرکے کمائے ہوئے منافع کا حکم

فتوی نمبر :
68249
| تاریخ :
2023-10-04
معاملات / ترکات / احکام وراثت

متروکہ گھر فروخت کرکے کمائے ہوئے منافع کا حکم

جناب قابلِ احترام مفتی صاحب دار الافتاء والقضاء جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ ایریا کراچی!
خدمات عالیہ میں مؤدبانہ گزارش ہے کہ حاجی اشرف خان مرحوم ہمارے والد صاحب ہیں، ان کا انتقال اکتوبر 2010ء میں ہوا، ان کے شرعی وارثان میں 5 بیٹے، 2 بیٹیاں اور ایک بیوہ ہے، بیٹے، بیٹیاں سب شادی شدہ ہیں۔
ہمارے والد صاحب مرحوم کی گاؤں مانسہرہ میں 2 مختلف جگہوں پر اراضی تھیں، قسم بارانی 3 کنال صرف، اور نہری 5مرلے صرف، کل 8 شرعی وارثین میں سے صرف ایک شرعی وارث یعنی ایک بیٹا مستقل طور پر گاؤں میں مقیم ہے سب شرعی وارثان کی رضامندی سے گاؤں والے بھائی نے بارانی زمین مبلغ 10 لاکھ میں فروخت کر دی، اور 5 مرلہ نہری اراضی کے ساتھ مکمل ملحق 11 مرلہ نہری اراضی کل 16 مرلہ بنی، اراضی دوسرے میر شری وارشان سے مبلغ کے لاکھ روپیہ خرید کی اس طرح میری اراضی کل ہے 16 مرلہ بنی اور یہی 16 مرلہ نہری اراضی ایک شخص کو مبلغ 22 لاکھ میں فروخت کردی۔
اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا رقوم جملہ شرعی وارثان میں کس طرح شرعی طور پر تقسیم ہوگی ؟ ہر ایک بھائی اور ہر ایک بہن اور ماں کو کتنی رقم ملے گی ؟ ضرورتحریر فرمائیں!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل کے گاؤں والے بھائی نے دیگر ورثاء کی رضامندی سے والد مرحوم کی متروکہ زمین میں تقسیم سے قبل خرید و فروخت کرکے جو نفع کمایا وہ سب والد مرحوم کا ہی ترکہ شمار ہوگا، اور تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعی تقسیم ہوگا۔
اسکے بعد واضح ہوکہ سائل کے والدمرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اُنکے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال مذکور جائداد سمیت جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الاداء قرض ہو یا بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہو تو اس کی ادائیگی کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگرمرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں، اسکے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چھیانوے (96) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو بارہ(12) حصے، ہر ایک بیٹے کو چودہ (14) حصے، جبکہ ہر ایک بیٹی کو سات(7) حصے دیئےجائیں، جیسا کہ ذیل کے نقشہ سے بھی معلوم ہو رہا ہے، مزید سہولت کیلئے فیصدی حصے بھی لکھ دیئے گئے ہیں ملاحظہ فرمائیں!
مسئلہ:8/96 والد مرحوم المضروب:12
میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی
1 7/84
12 14 14 14 14 14 7 7
12.5% 14.583% 14.583% 14.583% 14.583% 14.583% 7.29% 7.29%

مأخَذُ الفَتوی

کما فی درر الحكام: إذا بذر بعض الورثة الحبوب المشتركة في الأراضي الموروثة بإذن الورثة الآخرين أو إذن وصيهم إذا كانوا صغارا فتكون الحاصلات مشتركة بينهم جميعا۔اھ (3/ 51)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسامہ ارشد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68249کی تصدیق کریں
0     439
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات