جناب قابلِ احترام مفتی صاحب دار الافتاء والقضاء جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ ایریا کراچی!
خدمات عالیہ میں مؤدبانہ گزارش ہے کہ حاجی اشرف خان مرحوم ہمارے والد صاحب ہیں، ان کا انتقال اکتوبر 2010ء میں ہوا، ان کے شرعی وارثان میں 5 بیٹے، 2 بیٹیاں اور ایک بیوہ ہے، بیٹے، بیٹیاں سب شادی شدہ ہیں۔
ہمارے والد صاحب مرحوم کی گاؤں مانسہرہ میں 2 مختلف جگہوں پر اراضی تھیں، قسم بارانی 3 کنال صرف، اور نہری 5مرلے صرف، کل 8 شرعی وارثین میں سے صرف ایک شرعی وارث یعنی ایک بیٹا مستقل طور پر گاؤں میں مقیم ہے سب شرعی وارثان کی رضامندی سے گاؤں والے بھائی نے بارانی زمین مبلغ 10 لاکھ میں فروخت کر دی، اور 5 مرلہ نہری اراضی کے ساتھ مکمل ملحق 11 مرلہ نہری اراضی کل 16 مرلہ بنی، اراضی دوسرے میر شری وارشان سے مبلغ کے لاکھ روپیہ خرید کی اس طرح میری اراضی کل ہے 16 مرلہ بنی اور یہی 16 مرلہ نہری اراضی ایک شخص کو مبلغ 22 لاکھ میں فروخت کردی۔
اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا رقوم جملہ شرعی وارثان میں کس طرح شرعی طور پر تقسیم ہوگی ؟ ہر ایک بھائی اور ہر ایک بہن اور ماں کو کتنی رقم ملے گی ؟ ضرورتحریر فرمائیں!
صورتِ مسئولہ میں سائل کے گاؤں والے بھائی نے دیگر ورثاء کی رضامندی سے والد مرحوم کی متروکہ زمین میں تقسیم سے قبل خرید و فروخت کرکے جو نفع کمایا وہ سب والد مرحوم کا ہی ترکہ شمار ہوگا، اور تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعی تقسیم ہوگا۔
اسکے بعد واضح ہوکہ سائل کے والدمرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اُنکے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال مذکور جائداد سمیت جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الاداء قرض ہو یا بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہو تو اس کی ادائیگی کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگرمرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں، اسکے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چھیانوے (96) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو بارہ(12) حصے، ہر ایک بیٹے کو چودہ (14) حصے، جبکہ ہر ایک بیٹی کو سات(7) حصے دیئےجائیں، جیسا کہ ذیل کے نقشہ سے بھی معلوم ہو رہا ہے، مزید سہولت کیلئے فیصدی حصے بھی لکھ دیئے گئے ہیں ملاحظہ فرمائیں!
مسئلہ:8/96 والد مرحوم المضروب:12
میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی
1 7/84
12 14 14 14 14 14 7 7
12.5% 14.583% 14.583% 14.583% 14.583% 14.583% 7.29% 7.29%
کما فی درر الحكام: إذا بذر بعض الورثة الحبوب المشتركة في الأراضي الموروثة بإذن الورثة الآخرين أو إذن وصيهم إذا كانوا صغارا فتكون الحاصلات مشتركة بينهم جميعا۔اھ (3/ 51)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1