کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد کے انتقال کے وقت ورثاء میں ایک بیوہ،چار بیٹے اور چار بیٹیاں موجود تھیں، اس کے بعد ایک بیٹی شبنم کا انتقال ہوا، ورثاء میں شوہر، ایک بیٹی،والدہ،چار بھائی اور تین بہنیں موجود تھیں، اس کے بعد پھر بڑی بیٹی مقصودہ کا انتقال ہوا، ورثاء میں شوہر، دو بیٹے،ایک بیٹی اور والدہ موجود تھی، اس کے بعد پھر والدِ مرحوم کی بیوہ کنیز فاطمہ کا انتقال ہوا، ورثاء میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں موجود تھیں،(نانا، نانی کا پہلے انتقال ہو گیا تھا)اب والدِ مرحوم کا ترکہ مذکور ورثاء میں کیسے تقسیم ہو گا، دوسری بات بہنوں کا حصہ صرف والد صاحب کے انتقال کے وقت موجود جائیداد میں ہو گا یا جو اس کے بعد والد کے جائیداد اور کاروبار سے کمایا گیا ہے اسمیں بھی ہو گا، تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔
سائلہ کے والدِ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ مرحوم کا ترکہ ہے، جس میں"حقوق متقدمہ علی المیراث" کی ادائیگی کے بعد تمام ورثاءاپنے شرعی حصے کے حقدار ہیں،چنانچہ مرحوم کی وفات کے بعد اگر باہمی رضامندی سے مرحوم کے ورثاء نے مرحوم کے کاروبار کو جاری رکھ کر اس سے مزید کمائی کی ہو تو اب وہ سارا کا سارا مرحوم کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہو گا۔
اسکے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اسکے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان چھوڑا ہے، اسمیں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں،(البتہ اگر کسی نے یہ مصارف تبرعاً و احساناً ادا کیے ہوں تو اب یہ ترکہ سےمنہا نہیں کیے جائیں گے) اسکے بعد دیکھیں کہ اگرمرحوم کے ذمہ کوئی قرض واجب الادا ہو تو اسکی ادئیگی کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(1/3) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں، اُسکے بعد جو کچھ بچ جائے اسکےکل سات لاکھ ساٹھ ہزار تین سو بیس (760320) حصے بنائے جائیں،جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کو ایک لاکھ چونتیس ہزار چار سو اڑتیس(134438)حصے،ہر بیٹی کو ستاسٹھ ہزار دو سو انیس(67219) حصے،داما(مرحومہ شبنم کے شوہر)کو تیرہ ہزار آٹھ سو ساٹھ(13860)حصے، نواسی (مرحومہ شبنم کی بیٹی) کو ستائیس ہزار سات سوبیس(27720)حصے،دوسرے داماد(مرحومہ مقصودہ کے شوہر)کو تیرہ ہزار نو سو پینسٹھ(13965) حصے، ہر ایک نواسے(مرحومہ مقصودہ کے بیٹے) کو تیرہ ہزار چونتیس(13034)حصے،ہر ایک نواسی(مرحومہ مقصودہ کو بیٹی)کو چھ ہزار پانچ سو سترہ (6517) حصے دیے جائیں گے -
کما فی تكملة حاشية ابن عابدين:التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.(7/350)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1