السلام علیکم مفتی صاحب!اُمید ہے کہ خیریت سے ہوں گے ، آج کل مسجد میں درسِ قرآن میں بنی اسرائیل کا واقعہ ( بھتیجے نےچچاکو قتل کر کے دوسرے قبیلے کے سر الزام لگا دیا اور دیت کا مطالبہ کرنے لگا ، جس پر اللہ تعالیٰ نے گائے ذبح کر کے اس کا ٹکڑا لگانے کا حکم دیا ) چل رہا ہے تو امام صاحب نے بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں یہ تھا کہ اگر قاتل مقتول کا شرعی وارث بنتا ہو تو قتل کرنے کے سبب اسے جائیداد سے محروم کر دیا جاتا تھا !
سوال 1: اگر اس قاتل کے بچے ہوں تو کیا وہ بھی جائیداد سے محروم رہیں گے ؟
سوال 2 : والد کی زندگی میں اگر بیٹا فوت ہو جائے تو کیا پوتے کو دادا کی وفات کے بعد جائیداد نہیں ملتی ہے ؟ جبکہ والدین کو تو ملتی ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت کیا ہے؟
سوال 3: کیا ایک شخص اپنی زندگی میں اپنی تمام جائیداد اپنے کسی ایک بچےکو دیدے اور باقیوں کو نہ دے ، یا تمام اولاد کو نہ دے ، کیا وہ ایسا کر سکتا ہے ؟ یا دیتے ہوئے کمی بیشی کس بنیاد پر کر سکتا ہے ؟
1۔ ہماری شریعت (شریعتِ محمدی) میں بھی قتل وراثت سے محرومیت کا سبب ہے ، چنانچہ قاتل اگر مورث کا بیٹا یا قریبی وارث ہو تو وہ حقِ وراثت سے محروم ہو جائے گا ، البتہ اگر قاتل کے بچے موجود ہوں تو صرف قتل کی وجہ سے وہ وراثت سے محروم نہیں ہونگے ، بلکہ اگر وہ قریب جا عصبہ وغیرہ بنتے ہوں , تو وہ ترکہ میں حصہ دار ہونگے ، جبکہ بوقتِ ضرورت ورثاء کی مکمل تفصیل لکھ کر حکمِ شرعی معلوم کیا جا سکتا ہے۔
2۔ واضح ہو کہ بیٹوں کی موجودگی میں پوتوں کو اپنے دادا کی وراثت میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ملتا ، بلکہ بیٹوں کی موجودگی میں پوتے محروم ہوتے ہیں، البتہ اگر بیٹے اپنے بھتیجوں اور بھتیجیوں کو بخوشی کچھ دینا چاہیں تو اُنہیں مکمل اختیار حاصل ہے ، جبکہ مذکور حکم , حکمِ خداوندی ہے ، ایک مسلمان کیلئے بس یہی کافی ہے کہ وہ حکمِ خداوندی کے آگے سرنگوں ہو ، اس میں حکمتیں تلاش کرنا شرعاً ضروری نہیں ، بلکہ بسا اوقات اس طرح کی عادت احکاماتِ الٰہیہ میں رکاوٹ کا بھی سبب بن سکتی ہے ، اس سے اجتناب لازم ہے۔
3۔ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، وہ جس طرح چاہے اپنے مال میں جائز تصرف کر سکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں اور نہ ہی اولاد کو مطالبہ کا حق حاصل ہے ، البتہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ اپنی اور بیوی کی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی تمام اولادکے درمیان برابر تقسیم کر ے ، کسی کو کم اور کسی کو زیادہ نہ دے، کیونکہ سب ہی اس کی اولاد ہیں ، البتہ اولاد میں سے کسی کی خدمت گزاری ، دینداری یا محتاجی وغیرہ کی وجہ سے اُسے دوسروں کے مقابلے میں کچھ زیادہ دیا جا سکتا ہے ، لیکن بلا وجہ کسی کو بالکلیہ محروم کر دینا شرعاً درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی السراجی : المحروم لایحجب عندنا (و فی حاشیته) لایحجب لاحجب حرمان و لا حجب نقصان و علیه عامة الصحابةؓ۔اھ (ص:20)۔
و فی البحر الرائق : (قوله فروع) يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين۔اھ (7/288)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1